;صوبوں کا قیام تاریخی عمل، انتظامی بنیادوں پر نہیں بنائے جاسکتے، رضا ربانی

17 اپریل 2018

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے واضح کیا ہےکہ انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے اندرونی تنازعات کو مذید بڑھنے کا موقع ملے گا اس سے یقینا وفاق بھی متاثر ہوگا پارلیمان خصوصا ایوانِ بالا کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے معاملے کو کو قومی ڈائیلاگ کے ذریعے اجاگر کیا جائے یہ مسئلہ محض آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم کرنے سے حل نہیں ہوگا اس کے تناظر میں مذید آئینی ترامیم کی جائیں گی اور اس کے وفاق اور صوبوں پر دور رس اثرات مرتب ہونگے ۔پیر کو اپنے ایک بیان میں سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ صوبے انتظامی سہولت کی بنیاد پہ نہیں بنائے جاسکتے، صوبوں کا قیام ایک تاریخی عمل ہے ۔ تاریخ کی نفی کرنے سے اندرونی تنازعات کو مذید بڑھنے کا موقع ملے گا اورصوبوں میں تناو¿ پیدا ہوگا۔ لسانی، علاقائی اور قدرتی وسائل پر سوالات اٹھیں گے۔ صوبے اس کے باشندے اس کی جغرافیہ کی باقائدہ ایک تاریخ ہوتی ہے، صوبے کے لوگ ہی صوبے کے مالک ہوتے ہیں، انکی اپنی زبان ہوتی ہے انکا کلچر اور رسم و رواج ہوتا ہے اور لوگوں کا اپنے صوبے کے وسائل پر حق ہوتا ہے جو وہ آئینی معائدے کے ذریعے سے وفاق کو بھی دیتے ہیں ۔انھوں نے کہا ہے کہ یہاں ضرورت ہے کہ ایک سیاسی فکر کو قومی ڈائیلاگ کے ذریعے اجاگر کیا جائے اور اس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے مسائل پر آئینی ترامیم کی جائیں۔ لہٰذا پارلیمان خصوصاً ایوانِ بالا کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
رضا ربانی