توہین عدالت کیس: سیدھا چلیں گے تو بہتر ہوگا جسٹس عظمت کا دانیال عزیز کے وکیل سے مکالمہ

17 اپریل 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ نے وفا قی وزیر دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس میں وکیل صفائی کی جانب سے دو میں سے ایک گواہ کو طلب کرنے کی استدعا منظور کر لی ہے ۔عدالت نے دانیال عزیز کے وکیل کی پیمراکے ڈائریکٹرما نیٹرنگ حاجی آدم کو دوبارہ طلب کر نے کی استدعا مسترد کر دی ہے جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ وکیل صفائی عدالت کو مذکورہ گواہ کی دو بارہ طلبی پر قائل نہیں کرسکے تا ہم انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ایک نجی ٹی وی کے پروڈیوسر کو طلب کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ان سے کہا کہ اپنے گواہ کو سمن کی تعمیل خود کروائیں، تاخیری حربے استعمال نہ کریں، سیدھا چلیں گے تو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے تو ہین عدالت کیس کی سماعت کی۔دانیال عزیز کے وکیل علی رضا نے عدالت کو بتایا کہ گواہ نے وہ مواد پیش نہیں کیا جو ہمیں درکار ہے ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بار بار ایک گواہ کو بلانے سے وقت ضائع ہوگا، آپ گواہ سے مواد منگوا بھی سکتے تھے ۔ایڈوکیٹ علی رضا نے کہا کہ نجی ٹی وی کے کلپ کی تصدیق کروانی ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ متن کو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ففٹی ففٹی کر لیتے ہیں، پیمرا کے گواہ کو نہیں بلاتے اور پروگرام کے پروڈیوسر کاشف جبار کو سمن کر لیتے ہیں ، ایڈیٹنگ کا مطلب ہے کہ کیا کسی اور نے دانیال عزیز کی آواز نکالی، کسی اور کا دانیال عزیز کی آواز نکالنا مشکل لگتا ہے، آپ کو ایڈٹنگ کا مسئلہ ہے تو اصل ویڈیو بھی منگوا لیتے ہیں ،جبکہ آپ کی جانب سے عدالت میں ایک سی ڈی بھی پیش کی گئی ہے اس سی ڈی میں کیا ہے؟ دانیال عزیز کے وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے پوچھا کہ اس کیس سے کیا تعلق ہے تو فا ضل وکیل نے بتایا کہ جو بات دانیال عزیز نے کہی وہ جاوید ہاشمی نے بہت پہلے کہی تھی جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی سی ڈی کا کیس سے تعلق نہیں بنتا ۔ اس کے بعدعدالت نے جاوید ہاشمی کا بیان غیرمتعلقہ قرار دے دیا ۔عدالت نے دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی۔
جسٹس عظمت/ مکالمہ