ہسپتالوں میں فارمولا ملک کی فروخت ‘ پروموشن پر پابندی عائد ہے: صوبائی وزیر صحت

17 اپریل 2018

لاہور(نیوز رپورٹر)صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ ماں کا دودھ بچے کی بہترین غذا ہے یہ بچے کی تمام غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے جبکہ فارمولا ملک کسی صورت بھی ماں کے دودھ کا متبادل نہیں ہو سکتا۔انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بچوں میںسٹنٹنگ ریٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے ،جس کی بنیادی وجہ بچوں کی غذائی ضروریات پوری نہ ہونا ہے۔خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں فارمولا ملک کی فروخت اور پروموشن پر مکمل پابندی ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر غیر ضروری طور پر فارمولا ملک تجویز کرے گا تو اس کے خلاف ایکش لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے میں بریسٹ فیڈنگ کو فروغ دینا ہوگا،یہ نا صرف خواتین کو بریسٹ کینسر سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ ماں کا دودھ پینے والے بچے دوسرے بچوں کی نسبت ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈچائلڈ نیوٹریشن رولزمتعین کیے ہیں ،اس قانون پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائیں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں مقامی ہوٹل میںپنجاب پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈچائلڈ نیوٹریشن لاء کے حوالے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سمینار کا انعقاد محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکے زیر اہتمام کیا گیا۔سمینار میںممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عظمیٰ، ممبر پی اینڈ ڈی ہیلتھ ڈاکٹر شبانہ حیدر،ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن ڈاکٹر اختر رشید، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم مجید، ڈاکٹرذوالفقار،ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر ، پنجاب کے تحصیل اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے اے ایم ایس حضرات اوربین الاقوامی ڈویلپمنٹ پارٹنر زکے نمائند گان نے شرکت کی۔اس موقع پر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی پیدائش کے فورا بعد ہلاکت کی شرخ افسوس ناک ہے اور ناقص غذا اس وقت ہماراسب سے بڑامسئلہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق ناقص غذا ملک کی معیشت کو 12سے13فیصد تک نقصان پہنچاتی ہے،ہمیں اس پر قابو پانے کے لیے خصوصی توجہ دینی ہو گی۔انھوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ لیول کے ہسپتالوں میں سٹیبلائزیشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیںجن میں غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کا علاج کیا جاتاہے اور یہ سنٹرز 24گھنٹے کام کر رہے ہیں۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممبر پی اینڈ ڈی ہیلتھ ڈاکٹر شبانہ حیدر نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کا بنیادی حق ہے اور یہ ہماری مذہبی ،اخلاقی اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو انکے حق سے محروم نہ رکھا جائے۔دریں اثناء خواجہ عمران نذیر نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ سال جولائی 2017سے اپریل 2018ء تک 5803ادویات کے سیمپلز ٹیسٹنگ کے لئے پیش کئے گئے ‘ جن میں سے 4867ادویات کے سمپلز پاس قرار دیئے گئے۔ سمپلز کی کامیابی کا تناسب 98فیصد رہا۔ انہوں نے یہ بات آج ڈرگ کنٹرول یونٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈرگ یونٹ کے انچارج میں سہیل کے علاوہ ڈائریکٹر DTLاور دیگر افسران نے شرکی کی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان سمپلز میں سے کوئی بھی دوا جعلی قرار نہیں پائی۔ صرف104ادویات کے سمپلز کو فیل قرار دیا گیا جو کہ مینو فیکچرنگ سائنٹیفک Errorکے باعث فیل قرار دیئے گئے۔ فیل کردہ سمپلز میں سے کچھ سمپلز بڑے پیمانے پر مینو فیکچر کرنے والی دوا ساز فیکٹریوں کے بھی ہیں جو کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ 104فیل شدہ سمپلز میں سے84سمپلز شیشلائزڈ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ہیں جبکہ بقیہ سمپلز پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے ہیں۔