مشرف دور ‘ شیرپاﺅ نے ڈالر لیکر 4 ہزار پاکستانی غیر ملکیوں کے حوالے کئے پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی : جسٹس (ر) جاوید اقبال

17 اپریل 2018

اسلام آباد (خبر نگار) لاپتہ افراد کمشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں انکشافات کئے ہےں کہ آفتاب شیرپاو¿ نے 4ہزار پاکستانی غیر ملکیوں کے حوالے کیے، ملک دشمن ایجنسیز لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث رہی ہیں، غیر ملکی آقاو¿ں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کرنے کا اعتراف کیا، ایک پاکستانی کو کسی غیر ملک کے حوالے کیسے کیا جا سکتا ہے، پارلیمنٹ، آئین، عدالتیں ہونے کے باوجود کسی پاکستانی کو غیر ملک کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے کہا مشرف اور شرپاﺅ کے اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی، آخر کس قانون کے تحت پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا جبکہ کوئی معاہدہ بھی موجود نہیں۔ یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستانی غیر ملکیوں کو دینے کے عو ض ڈالرز حاصل کئے گئے۔ این جی اوز ملک کی بجائے غیر ملکیوں کے مفاد میں کام کر رہی ہیں، فنڈنگ بھی غیر ملکیوں سے ہوتی ہے، میرے اختیار میں ہوتا تو این جی اوز پر پابندی عائد کر چکا ہوتا لیکن سیاسی مصلحت آڑے آجاتی ہے۔ یہ بھی بتایا کہ شکیل آفریدی کے کردار سے بین الاقوامی این جی اوز کے کردار کو پرکھا جا سکتا ہے، لاپتہ افراد کے معاملے پر غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس زہرہ ودود فاطمی کی سربراہی میں ہوا۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کےلئے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار حقائق کے برعکس ہیں۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی اور نصراللہ بلوچ کو فہرست فراہم کرنے کا کہا لیکن کوئی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ کمیشن کو لاپتہ افراد کے 4929 کیسز موصول ہوئے، مارچ 2011 سے فروری 2018 تک کمیشن نے 3219 کیسز نمٹا دئیے، اس وقت کمیشن کے پاس لاپتہ افراد کے 1710 کیسز زیر تحقیقات ہیں، گزشتہ دو سال میں کمیشن کو اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے لاپتہ افراد کی جانب سے بھی 368 کیسز موصول ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ سے ہے، اگست 2016 میں کراچی سے 68 لاپتہ افراد کا پتہ لگا لیا گیا ، جو یا جیل میں تھے یا واپس گھر لوٹ چکے تھے۔جاوید اقبال کے مطابق کراچی سے 368 لاپتہ افراد کیسز میں سے 309 نمٹا دئیے گئے، کمیٹی کی رکن نسیمہ حفیظ نے کہا کہ ملک میں منظور پشتین کو میڈیا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ لاپتہ افراد کی بات کر رہا ہے، اس کے جلسے میں وہ خواتین شریک تھیں جن کے ہاتھوں میں ان کے خاندان کے دو ، تین لاپتہ افراد کی تصاویر تھیں، جاوید اقبال نے کہا کہ منظور پشتین سے رابطہ کروں گا، ان سے لاپتہ افراد کی فہرست لیکر معاملے کو دیکھوں گا۔اکثر بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد خوف کی وجہ سے کمیشن کے سامنے واقعات سنانے سے اجتناب کرتے ہیں، لاپتہ افراد میں سے ستر فیصد سے زائد لوگ عسکریت پسندی میں ملوث پائے گئے،کوئی شخص دہشت گرد ہے تو اس کا مطلب نہیں کہ اس کے گھر والے بھی دہشت گرد ہیں،جاوید اقبال نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی قیادت کی اپنے لاپتہ افراد معاملے میں عدم دلچسپی رہی، سب جانتے ہیں ایم کیو ایم کو حکومت کا بھی موقع ملا اور عشرت العباد گورنر سندھ رہے تاہم اختیار ملنے کے باوجود ایم کیو ایم نے اپنے لاپتہ افراد کی بازیابی میں سنجیدگی ظاہر نہیں کی، ایم کیو ایم کے بعض لاپتہ افراد کا 20 سال گزرنے کے باوجود تاحال پتہ نہیں چل سکا، عشرت العباد نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو پلاٹ اور ایک نوکری دی اور معاملہ ختم کردیا۔اس وقت ایم کیو ایم کے 14 لاپتہ افراد کے کیسز کمیشن کے پاس ہیں، ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک تجاوز کر گئی ہے،اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، کمیشن کے پاس ایم کیو ایم کارکنان کے 29 کیسز زیر التوا ہیں ، جو 1992 سے 1995 تک کے ہیں۔ جاوید اقبال نے بتایا حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو خفیہ طریقے سے غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا ۔ملک دشمن ایجنسیز بھی لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث رہی ہیں، یہ ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر آئی ایس آئی اور ایم آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں۔اجلاس کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کی کارروائی کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے چیئر مین نیب نے انتقامی کارروائیوں سے متعلق تمام تاثرات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی کسی قسم کی ڈکٹیشن لینے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ جاوید اقبال نے کہا کہ مجھے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت بھی نہیں ڈکٹیشن کا محسوس کیا تو اپنا بریف کیس اٹھاﺅں گا اور چلا جاﺅں گا۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ثریہ اصغر نے اعتراض کیا ہم نے آپ سے نیب کے متعلق کوئی وضاحت نہیں مانگی‘ جو ہو رہا ہے ہمیں پتہ ہے‘ آپ وضاحت نہ کریں۔ جس پر چیئر مین نیب نے کہا میں ذاتی طور پر خود وضاحت دے رہا ہوں کیونکہ الزامات لگیں تو وضاحت ضروری ہے۔
جاوید اقبال