وزیراعظم آرمی چیف کی شاہ سلمان سے ملاقات‘ دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

17 اپریل 2018

اسلام آباد+ ریاض /دمام (نمائندہ خصوصی+ اے پی پی+ آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیزکے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیاگیا جبکہ شاہد خاقان عباسی نے سعودی شاہ کو پاکستانی عوام کے سعودی عرب اور خادم الحرمین الشریفین کیلئے پائے جانے والے گراں قدر جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔ دمام میں ہونے والی ملاقات میں اہم دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال سمیت دلچسپی کے دیگر اہم امور پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے بھی پاکستانی عوام اور حکومت کے جذبات اور اقدامات کو سراہا، یہ ملاقات فوجی مشقوں گلف شیلڈ ۔1کی اختتامی تقریب کے موقع پر ہوئی، ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر دفاع خرم دستگیر بھی موجود تھے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے 24ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں کی اختتامی تقریب کی سربراہی بھی کی جس دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا مشقوں کا انعقاد علاقائی خطرات کے خلاف فوجی اتحاد کے قیام کا مظاہرہ ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعظم دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت کیلئے کل برطانیہ جائیں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی سول فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات‘ پیشہ وارانہ امور‘ علاقائی سلامتی کے اہم امور اور باہمی دلچسپی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دولت مشترکہ سربراہان حکومت کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ اجلاس 18سے 20اپریل تک لندن میں ہو گا۔ وزیراعظم لندن میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ‘ پرنس آف ویلز اور دوسرے رہنماﺅں سے ملاقاتیں کریں گے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کئی دیگر عالمی رہنماﺅں کے ہمراہ 24 ممالک کی مشترکہ فوجی مشق ”گلف شیلڈ ون“ کی عظیم الشان اختتامی تقریب میں شرکت کی اور عسکری مہارتوں کا شاندار مظاہرہ دیکھا۔ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز السعود نے عالمی رہنماﺅں، وزراءبرائے دفاع اور خارجہ اور مختلف مسلح افواج کے سربراہان کا تقریب میں خیرمقدم کیا جو دمام کے شمال مشرق میں تقریباً 140 کلومیٹر دور صحرا میں منعقد ہوئی۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہشام بن صدیق بھی موجود تھے۔ 41 ممالک کے اتحاد ”اسلامک ملٹری کاﺅنٹر ٹیررازم کولیشن“ کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بھی تقریب میں شریک تھے۔ رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشق کی کمان کے تحت سلطنت کے شرقی ساحل کے ساتھ منعقد ہونے والی تینوں افواج کی مشترکہ مشق کا اہتمام باہمی رابطہ کو فروغ دینے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے مل کر کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔ سعودی وزارت دفاع نے ”گلف شیلڈ ون“ مشق کو دنیا میں جدید ترین عسکری نظام کے مطابق بروئے کار لائے جانے والی جنگی مہارتوں کے حوالہ سے اسے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والی مشق کی اختتامی تقریب میں بری، فضائی اور بحری افواج نے مربوط حملے میں استعمال کی جانے والی مہارتوں کا مظاہرہ کیا جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 لڑاکا طیاروں نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں مشق کے دوران بکتر بند گاڑیوں میں بری افواج نے حملہ کیا اور اسے اپاچی گن شپ کی فضائی معاونت حاصل رہی۔ سمندر سے بحری افواج نے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ سپیشل سروسز کے دستوں نے مشق میں بقیہ شرپسند عناصر کا صفایا کیا۔ سعودی فرمانروا اور مہمان شخصیات نے ایک بڑے ہال سے اس تقریب کا مشاہدہ کیا جس کے تین اطراف پر بڑی بڑی شیشے کی دیواریں تھیں اور صحراءکے منظر کو دیکھنے کیلئے درجنوں بڑی ٹی وی سکرینیں نصب کی گئی تھیں۔ فائر پاور شو کا اختتام شریک ممالک کے دستوں کی پریڈ اور سعودی عرب اور دیگر علاقائی افواج کی طرف سے استعمال کی جانے والی توپوں، اسلحہ نظام، لانگ رینج آرٹلری اور میزائلوں کے مظاہرہ سے ہوا جبکہ اس موقع پر فلائی پاسٹ کا بھی شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ بعد ازاں سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے دورہ کرنے والے وفود کے سربراہان کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا اور ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ یہ بڑے پیمانے پر اپنی نوعیت کی منعقد ہونے والی پہلی مشق تھی جس میں دنیا کی 10 مضبوط ترین افواج کے دستوں نے شرکت کی۔ بحرین، سعودی عرب، کویت، ترکی، یو اے ای اور امریکہ کے جنگی بحری جہازوں نے بھی مشق میں حصہ لیا۔
وزیراعظم/ مشقیں