حکومت نے عوامی فلاح کو ترجیح دی‘ مخالفین گالی کی سیاست کرتے رہے : شہبازشریف

17 اپریل 2018

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں صوبے میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سکیورٹی کے حوالے سے کیے گئے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس ضمن میں ضروری ہدایات جاری کیں۔ شہبازشریف نے ہدایت کی کہ سکیورٹی انتظامات کو مزید فول پروف بنایا جائے اور اعلیٰ حکام ازخود سکیورٹی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ سکیورٹی معاملات میں کسی بھی قسم کا تساہل قابل برداشت نہیں اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنے فرائض تندہی سے سرانجام دیں۔ شہبازشریف سے وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر بات چیت کی گئی۔ شہبازشریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے جبکہ ہمارے سیاسی مخالفین نے کارکردگی کی بجائے گالی کی سیاست کی ہے ۔ موجودہ دور میں جتنے منصوبے مکمل کئے گئے ہیں وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ مخالفین نے جھوٹ بولنے کے ریکارڈ بنائے جبکہ ہم نے ترقیاتی کاموں کے ریکارڈ قائم کئے۔ ہمارے ترقیاتی منصوبے شفافیت، معیار اور رفتار سے عبارت ہیں اور عوام مسلم لیگ (ن) کی خدمت کی سیاست کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت کے باعث آج ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین جماعت ہے۔ سیاسی مخالفین جان چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے صوبوں میں عوام کا وقت ضائع کیا ہے اور اب یہ عناصر عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے۔ ہماری حکومت عوام کے سامنے سرخرو ہے اور انشاءاللہ عام انتخابات میں سر فخر سے بلند کرکے عوام کے پاس جائیں گے۔ عوام عام انتخابات مےں قومی وسائل لوٹنے والوں اور ترقی کے سفر میں روڑے اٹکانے والوں کا محاسبہ کریں گے اوراپنے صوبوں میں عوام کو نظرانداز کرنےوالے انتخابات میں عوام سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ایک سیاسی جماعت نے کے پی کے جبکہ دوسری جماعت نے سندھ کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ عوام نے انہیں اپنی خدمت کا مینڈیٹ دیا لیکن انہوں نے عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کےا۔ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت دراصل عوام دشمنی ہے۔ دھرنوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا باعث بننے والوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابق کرپٹ حکمرانوں کی قومی وسائل کی بیدردی سے لوٹ مار کی وجہ سے ملک غربت، بیروزگاری اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔ ملک و قوم کو اندھیروں میں دھکیلنے والے بھی یہی لوگ ہیں۔ علاوہ ازیں شہبازشریف نے لاہور سے وےڈےو لنک کے ذرےعے بہاولپور مےں ورکرز کنونشن سے خطاب کےا۔ وزےراعلیٰ نے بہاولپور مےں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے موسم کی خرابی کے باعث مےرا جہاز آج بہاولپور لےنڈ نہےں کرسکا۔ مےرے بار بار اصرار کے باوجود پائلٹس نے کہا کہ ہم اس موسم مےں بہاولپور نہےں جاسکتے۔ مےں نے آپ کے پاس آنا تھا اور اہم باتےں کرنی تھیں، کچھ مشورے آپ سے لےنے تھے اور کچھ مشورے آپ کو دےنے تھے۔ انشاءاللہ جلد آپ سے بالمشافہ ملاقات کروںگا اور تفصےلاً گفتگو ہوگی اور اس مقصد کےلئے مےں بہت جلد بہاولپور آو¿ں گا اور پارٹی عہدےداروں اورکارکنوں سے ملاقات کروںگا۔ بہاولپور صوبے کی بحالی کے حوالے سے بھی آپ سے مشاورت ہوگی۔ مسلم لےگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ 9سال کے قلےل عرصے مےں بہاولپور مےں 70ارب سے زائد کی خطےررقم ضلع کی تعمےرو ترقی پر صرف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ5سال مےںتقرےباً50ارب روپے ضلع بہاولپور کی تعمےرو ترقی کےلئے ےہاں کے عوام کے قدموں پر نچھاورکےے ہےں۔ حکومت نے ملک کو استحکام اورخوشحالی کی راہوں پر گامزن کےا ہے۔ پاکستان بدامنی سے امن تک، پسماندگی سے خوشحالی تک اور اندھےروں سے روشنی تک کا سفرکامےابی سے طے کررہا ہے۔ خطاب کے دوران کارکن ”شہبازشرےف زندہ باد“ کے نعرے لگاتے رہے۔
شہبازشریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگانے کی اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں، نیب کے اقدامات اور ان کے رہنما¶ں کے خلاف عدالتی ریمارکس پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑا حصہ سب کچھ برداشت کرنے کے حق میں ہے تاکہ الیکشن 2018ءمنزل تک پہنچا جاسکے۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت بھی براہ راست ٹکراﺅ سے گریزاں ہے معلوم ہوا ہے کہ سوموار کو جاتی امراءرائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے ملاقات کیلئے آنے والے وزیراعلیٰ پنجاب و مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے درمیان بھی اس سلسلے میں تبادلہ خیال ہوا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے تبادلہ خیال کے دوران اس صورتحال سے نکلنے کیلئے کیا حکمت عملی بنائی لیکن ایک بات طے ہے کہ اس تشویشناک صورتحال پر مسلم لیگی رہنماﺅں کو بہرحال پریشانی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے نواز شریف نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناءاللہ بھی پسپائی کرنے کے حق میں نہیں لیکن ان تینوں رہنماﺅں سمیت نواز شریف کی رائے ہے کہ الیکشن 2018ءتک جایا جائے تاکہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے مخالفین کو شکست دے دی جائے۔ اس کے بعد یقیناً صورتحال میں بہتری آ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے میاں شہبازشریف کو تلقین کی اپنے لوگوں کو پیغام دیں کہ مخالفین ان کو مشتعل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اس لئے صبروبرداشت سے کام لیکر ان کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیں۔
ملاقات