حلقہ بندیاں قانون کیخلاف ہوئیں، قومی اسمبلی خصوصی کمیٹی ورکنگ گروپ الیکشن کمشن کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شریک نہ ہوا

17 اپریل 2018

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں سے متعلق خصوصی کمیٹی کے ورکنگ گروپ نے مجوزہ حلقہ بندیوں کو قانون اور رولز کے خلاف قرارد یتے ہوئے تجاویز پر اصولی اتفاق کرلیا،ورکنگ گروپ کا کہنا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندیوں پر سپریم کورٹ سے رجوع، انکوائری کمشن کی تشکیل ،آرڈیننس لاسکتے ہیں۔ دانیال عزیز کی سربراہی میں ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری شماریات رخسانہ یاسمین نے کہا کہ مردم شماری کی حتمی رپورٹ اپریل کے آخر میںد ے دیں گے ،عبوری اور حتمی رپورٹ کے نتائج میں ایک سے دو فیصد کا فرق ہوسکتا ہے،اجلاس میں الیکشن کمشن کے حکام نے عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق منصوبہ بندی کمیٹی اجلاس کے باعث شرکت سے معذرت کی۔ کنونیئر کمیٹی دانیال عزیز نے کہا کہ اداروں نے جھوٹ بول کر پارلیمنٹ سے عبوری مردم شماری رپورٹ پر حلقہ بندیاں کروانے کیلئے چوبیسیویں آئینی ترمیم کروائی حالانکہ اگست 2018سے پہلے مردم شماری کا پورا عمل مکمل نہیں ہوسکے گا، ورکنگ گروپ نے مجوزہ حلقہ بندیوں پر تجاویز پر اصولی اتفاق کرلیا ، دانیال عزیز کے مطابق مجوزہ حلقوں پر ازخودنوٹس کیلئے آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ میںدرخواست، حکومت کو آرڈینس لانے، انکوائری کمیشن بنانے اور قانون سازی کی تجاویز دے سکتے ہیں۔ ورکنگ گروپ ہفتے کو تجاویز کی حتمی منظوری دے گا۔ جس کے بعد رپورٹ خصوصی کمیٹی کو دی جائیگی۔