ٹی بی کیخلاف جنگی بنیادوں پر کام جاری‘ 2030ء میں بیماری کا مکمل خاتمہ کردیں گے: وزیر صحت

17 اپریل 2018

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت ٹی بی کی روک تھام اور اس بیماری کے خاتمہ کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان اور دُنیا بھر میں ٹی بی کے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے صوبا ئی حکومتوں کے تعاون سے گزشتہ چند برسوں میں خاطر خواہ کوششیں کی ہیں۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام ملک میں صحت کے سرکاری شعبہ کے پروگراموں میں سب سے بہتر طورپر کام کررہا ہے۔اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ہم انشااللہ 2030 تک ٹی بی کا خاتمہ کر دیں گے ۔ہمیں لوگوں کو آگاہی دینا ہو گی کہ صفائی اور حفاظتی تدابیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ٹی بی جیسی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پاکستان بھر میں ٹی بی کی تشخیص اور علاج کی خدمات سرکاری ونجی شعبہ کے 1700ہسپتالوں اور علاج کے مراکز میں مفت دستیاب ہیں۔ 2016ء میں ٹی بی کے 70فیصد کیسوں کی نشاندہی ہوئی اور ان سے 90 فیصد کا کامیاب ترین علاج ہوا۔ ملک بھر میں ایم ڈی آر ٹی بی کے مریضوں کے علاج ، تشخیص کے لیے 120سے زائد جدید ترین تشخیصی مراکز اور علاج کے 32مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں پر مریضوں کو علاج معالجہ اور تشخیص کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ہماری نجی شعبہ کے ساتھ بھی شراکت داری اور تعاون ہے ۔ آج ملک بھرمیں ٹی بی پر قابو پانے کے لیے 3500سے زائد جنرل پریکٹیشنز، 125این جی او ، اور 2000فارمیسیز اور 35پرائیویٹ ہسپتال مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ٹی بی /ایچ آئی وی کی قبل از وقت تشخیص اور سکریننگ کے لیے 40سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا پاکستان ٹی بی کے خلاف جدوجہد میں عالمی برادری کے ساتھ ہے اور ہم نے 2030ء تک ٹی بی کی بیماری کے خاتمہ کا مکمل تہیہ کررکھا ہے۔ اس سال مئی میں ٹی بی پراعلیٰ سطحی علاقائی کانفرنس منعقد کروارہے ہیں اور ہمارے صحت اور آبادی کے تھنک ٹینک کل اسلام آباد میں عالمی اور قومی سطح کے ماہرین کے ساتھ اجلاس کررہے ہیں تاکہ ٹی بی پر قابو پانے کے بقیہ چیلنج کو بھی پورا کیا جاسکے۔انہوں نے ٹی بی کی بیماری کے سماجی وقتصادی نقصانات اور صحت کی تباہی کے بارے میں عوام میں شعور وآگاہی پیدا کرنا ہے اور اس ضمن میں ان عورتوں ، بچوں، معمر افراد، مہاجرین، پناہ گزین قیدیوں کو ٹی بی کے خطرات لاحق ہوتے ہیں جوکہ نامساعد حالات میں کام کرتے رہتے ہیں۔