سندھ کابینہ کا اجلاس‘ زراعت پالیسی‘ اساتذہ کی مستقلی‘ انٹرا سٹی بس سمیت اہم فیصلے منظور

17 اپریل 2018

کراچی (آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے، سندھ کابینہ نے شعبہ زراعت، این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے سمیت انٹراسٹی کے لئے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے، 12 نکاتی ایجنڈے کے تحت جن تجاویز کی منظوری دی ہے اسے جلد ترمیمی بلز کی صورت میں منظوری کے لئے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں نئی زراعت پالیسی، ایاز تنیو کو بطور نئے پراسیکیوٹر جنرل تعینات ، گورنر کے اعتراضات کے بعد این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے، انٹراسٹی منصوبہ کئیا 10 اے سی بسوں کے پائلٹ پروجیکٹ، سندھ یوتھ پالیسی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کا نام تبدیل کرکے شیخ ایاز یونیورسٹی کرنے سمیت بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018ء ترمیم کی تجاویز بھی دی گئیں۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرائ، چیف سیکریٹری سندھ ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سہیل راجپوت و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔سندھ کابینہ کے اجلاس میں بعض بلوں کی منظوری دیئے جانے پر بحث کی گئی جن میں (1) سندھ کابینہ کا گزشتہ اجلاس 9 اپریل 2018ء کے منٹس کی منظوری (2)پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی (3) لیبر کورٹ کے پریزائیڈنگ آفیسرز کی نامزدگی (4) سندھ ہیومن رائٹس کمشن کے ارکان کے لیے شرائط و ضوابط طے کرنا (5) این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018ء پر گورنر کے اعتراضات پر غور (6) پائلٹ پروجیکٹ بسوں کے کرایوں کا تعین (7) 2018 ء سے 2030ء تک سندھ زرعی پالیسی (8) سندھ یوتھ پالیسی (9) سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈی ننس میں ترمیم کی منظوری (10) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینا (11) بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018ء کی پرزینٹیشن (12) ایڈیشنل ایجنڈا آئٹم میں سندھ انڈسٹری رجسٹریشن ایکٹ - 2018ء کی تشکیل شامل ہیں۔ اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018ء پر غور کیا گیا جوکہ سندھ اسمبلی نے 26 فروری 2018ء کو منظوری کے بعد گورنر سندھ کو بھیجا تھا جس پرگورنر سندھ نے کچھ اعتراضات کے بعدبل دوبارہ نظرثانی کیلئے واپس کردیا جنکا خیال ہے کہ متعلقہ اساتذہ یونین کاؤنسل/تعلقہ سطح پر تعینات ہوئے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ اساتذہ اپنی یونین کاؤنسل یا تعلقہ سے تبادلہ نہیں کرائیں گے۔ جس پر سندھ کابینہ نے مجوزہ بل کی منظوری دے دی۔ اسکے بعد اجلاس میں انٹراسٹی کے لئے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ ایجنڈے زیر بحث لایا گیا۔ جس پر وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر شاہ نے کابینہ کو بتایا کہ 24 سیٹر 10 اے سی بسیں کراچی کے اہم شاہراہوں پر چلائی جائیں گی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ کرایہ کمیٹی کی تجویز پر مقرر کیا گیا ہے۔ سندھ کابینہ نے پائیلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی۔ اسکے بعد اجلاس میں زرعی پالیسی کے ایجنڈے پر زیر بحث ہواجوکہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز کے شعبوں پر محیط تھا۔ وزیر زراعت سہیل انور سیال نے مجوزہ پالیسی کو اہم قرار دیتے ہوئے سندھ کابینہ کو بتایا کہ زرعی پالیسی ورلڈ بین کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت قومی معیشت میں 24 فیصد کا شراکت دار ہے، سال 2000 سے زرعی شعبہ کی ترقی 3 فیصد پر ٹھری ہوئی ہے۔سندھ میں آبپاشی کا نظام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد نئی زراعت پالیسی منظور کرلی ہے۔ اسکے بعد اجلاس میں یوتھ پالیسی کے ایجنڈے پر بحث کیا گیا۔ سندھ کابینہ نے یوتھ افیئرز کے صوبائی وزیر عابد بھیو اور سیکرٹری نیاز عباسی کی جانب سے جامع پالیسی دینے پر کابینہ کی مبارکباد دیتے ہوئے یوتھ پالیسی بل کی منظوری دے دی۔ اسکے بعد کابینہ اجلاس میں سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈی ننس میں ترمیم پر بحث کی گئی۔ سندھ کابینہ کو وزیر کھیل محمد بخش مہر نے بریفنگ دی۔ سندھ کابینہ نے سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈی ننس کی ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے مجوزہ آرڈی ننس سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسکے بعدشاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے کے ایجنڈا پر بحث کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کا نام شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور ہوگا اور شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور ایکٹ 2018ء بلایا جائے گا۔ سندھ کابینہ نے شیخ ایاز یونیورسٹی ایکٹ 2018ء کی منظوری دے دی۔ اسکے بعداجلاس میں بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018ء کے ایجنڈے پر بحث کی گئی جوکہ 271 کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر میں قائم کی جارہی ہے۔ بریفنگ کے بعد سندھ کابینہ نے مسودے کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اسکے بعد اضافی آئٹم میں سندھ انڈسٹری رجسٹریشن ایکٹ - 2018ء کی تشکیل پر سندھ کابینہ اجلاس میں تجویز زیر بحث لائی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ 2 محمود آباد سے تمام تجاوزات ہٹائے جائیں، پلانٹ کی 150 ایم جی ڈی ڈی گنجائش ہے جسکو بڑھا کر 500 ایم جی ڈی کیا جائے گا اور ہر فیکٹری میں پری۔ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی ہوگا۔ اضافی ایجنڈے سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی پر بھی بحث کیا گیاجس پر بتایا گیا کہ اتھارٹی کو بورڈ چلائے گا جسکا چیئرمین وزیر لائیو اسٹاک ہوگا،سندھ کابینہ نے لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کی منظوری دے دی۔