فرقہ پرست عناصر کی حکومتی پشت پناہی کے باعث کٹھوعہ جیسے واقعات پیش آتے ہیں : فاروق عبداللہ

17 اپریل 2018

سرینگر (اے این این ) نیشنل کانفرنس صدر وممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کھٹوعہ قتل وعصمت دری کیس کے حوالے سے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلی سے کہا ہے نیشنل کانفرنس نے ایسے جرائم کے مرتکب افراد کیلئے سزائے موت کا بل اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بل کو قانون کی شکل دینے کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔ ڈاکٹر فاروق نے الزام عائد کیا ہے کہ کٹھوعہ میں معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا واقعہ موجودہ مخلوط حکومت کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت فرقہ پرست عناصر کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کی گئی،مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کو اس سانحہ کیخلاف آواز اٹھانے میں دو ماہ کا وقت لگا۔ڈاکٹر فاروق نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں صوبائی سطح کے اجلاس سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عصمت دری کے مرتکب افراد کیلئے پھانسی کا قانون بنایا جا ئے تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم نہ ہوں۔انہوں نے ریاستی وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کیوں نہیں لے سکتیں، اب تویہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیصلہ لے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج پورا ملک جاگ گیا ہے اور قاتلوں کو سزا کی مانگ کر رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ انصاف مل کر ہی رہے گا۔ اس سے قبل پارٹی ہیڈکوارٹر پر صوبائی سطح کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ڈاکٹر فاروق نے کہا ہے کہ پی ڈی پی بی جے پی محلوط سرکار نے جموں وکشمیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں فرقہ پرستی کا رجحان غالب ہوگیا ہے اور ریاست بھی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...