درمیانی عمر کے موٹے افراد میں جگر کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: تحقیق

17 اپریل 2018

لندن (بی بی سی) ایک مطالعے سے پتا چلا ہے کہ برطانیہ میں درمیانی عمر کے ہر آٹھ میں سے ایک فرد کو موٹاپے کی وجہ سے جگر کے امراض کا سامنا ہے۔ بائیو بینک ریسرچ پروجیکٹ میں تقریباً تین ہزار افراد کے سکین سے پتہ چلا ہے کہ تقریباً 12 فیصد افراد کے جگر یا لیور کا سائز بڑھا ہوا اور ان میں چربی موجود تھی۔ برٹش لیور ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج 'بہت تشویشناک ہیں' اور یہ 'خطرے کی گھنٹی' ہے کیونکہ ایسی صورت حال سے سرہوسس یعنی جگر سخت اور ناکام ہوسکتا ہے اور موت واقع ہوسکتی ہے۔ ہیپاٹولوجسٹ کا کہنا ہے کہ چربی دار جگر کی بیماری کسی خاموش وبا کی طرح ہے۔ برطانیہ میں سائنسدانوں نے جگر کے امراض کی تشخیص کے لئے ایک جدید سافٹ وئیر تیار کیا ہے جس سے جگر کے مریضوں کے علاج و تشخیص میں مدد ملے گی۔ برطانیہ میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کو جگر کے امراض کا سامنا ہے۔ آکسفورڈ کی 52 سالہ فرانسیس کیرول کو سات سال قبل بتایا گیا کہ انہیں چربی دار جگر کی بیماری تھی۔ ان کا وزن 116 کلو گرام تھا۔ لیکن اس وقت ان کا وزن 42 کلو کم ہو چکا ہے۔ فرانسیس نے بتایا 'جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے جگر کی بیماری ہے تو میں نے زیادہ صحت مند غذا لینی اور جسمانی ورزش شروع کی۔ اب میں خوش ہوں کہ معمول پر آ گئی۔'