بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے خودکشی کرنیوالی لڑکی کو مسلمان قرار دیکر شوہر کی قبر کے قریب دفن کرنے کا حکم دیدیا

17 اپریل 2018

ڈھاکہ (اے ایف پی) بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے بین المذہبی شادی کے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ اے ایف پی کے مطابق عدالت نے چار سال قبل خودکشی کرنیوالی 18سالہ لڑکی کو مسلمان قرار دیتے ہوئے شوہر کی قبر کے قریب دفن کرنے کا حکم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 2013ء میں ایک ہندو لڑکی نے اسلام قبول کر کے ایک مسلمان لڑکے ہمایوں فرید سے شادی کر لی جس پر لڑکی کے والدین نے ہمایوں فرید کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا۔ دونوں خاندانوں کو شادی پر اعتراض تھا انہوں نے اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع کیا۔ اس کشمکش کے دوران ہمایوں فرید نے 2014ء میں خودکشی کر لی جبکہ اس کی بیوی حسن آرا نے بھی 2ماہ بعد زہر پی کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ دونوں خاندان لڑکی کے مذہب کو بنیاد بنا کر مقدمہ لڑ رہے تھے۔ لڑکی کے والدین اس کو ہندو جبکہ سسرال والے مسلمان قرار دے رہے تھے‘ دونوں خاندان اپنے اپنے مذہبی طریقے سے آخری رسومات کرنا چاہتے تھے۔ جس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ نے سنا دیا۔