جسٹس اعجازالاحسن کے گھر فائرنگ کیخلاف وکلا عدالتوں میں پیش نہ ہوئے

17 اپریل 2018

ملتان (سپیشل رپورٹر‘ نمائندوں سے) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر فائرنگ کیخلاف وکلا نے ہڑتال کی‘ عدالتوں میں پیش نہ ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھرپرفائرنگ کے واقعہ کیخلاف ہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز ملتان کی جانب سے ہڑتال اور احتجاجی اجلاس منعقد کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ روزہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے بارہال میں احتجاجی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں مختلف قراردادیں منظورکرتے ہوئے کہا گیاکہ عدلیہ جیسے اہم ترین ادارے کاتحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اوراس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی اور تمام وکلاء فاضل جج کے گھر پرہونے والے فائرنگ کے 2 واقعات کی پرزور مذمت کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات کے حقائق فوری طور پر منظرعام پرلائے جائیں اور ملزموں کو فوری گرفتارکرکے قرارواقعی سزا دی جائے ورنہ اس سانحہ کی ذمہ داری حکومت وقت پرعائدہوگی۔دریں اثناء ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان نے اس سے قبل بھی عدلیہ بحالی تحریک میں اپنا اہم کردار ادا کیا تھا اور اب بھی عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اپنا اہم کردار ادا کرنے اورہرقسم کی قربانی دینے کے لئے تیارہیں اورملتان ہائیکورٹ بار مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کوسامنے لائیں اس سے پہلے کہ یہ صورت حال سنگین ہوجائے۔اس موقع پراجلاس کی صدارت صدربارخالداشرف خان نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری ملک محمد عثمان بھٹی نے انجام دئیے۔ اجلاس سے ملک محمد حیدر عثمان، کنور محمد یونس، شمس القمرخٹک ،شیخ غیاث الحق،شیخ ارشد محمود اور محموداشرف خان نے خطاب کیا۔ نیز ارجنٹ مقدمات کی سماعت کے بعد ہڑتال کی گئی اور وکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ اجلاس کے آخرمیں ہائیکورٹ بارکی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیاگیا۔اس طرح ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے واقعہ کیخلاف مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا گیا اوروکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔بعدازاں احتجاجی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر ملک محبوب علی سندیلہ اور جنرل سیکرٹری ملک جاوید اقبال اوجلہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ انصاف کی راہ میں رکاوٹ کی ایک سازش ہے جسے کسی طور وکلاء کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سمجھتے کہ سپریم کورٹ کے جج پر حملہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی نااہلی ہے انکوائری مکمل کر کے ناصرف ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے بلکہ اس کے پیچھے محرکات اور سہولت کاروں کو بھی قوم کے سامنے لایا جائے۔ اجلاس سے مشتاق حیدر ٹیپو،صائمہ ایوب،تصور منظور، نوید ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔اجلاس کے اختتام پر واقعہ کیخلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔خان گڑھ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ڈسٹرکٹ بار مظفرگڑھ نے پیر کے روز فل ڈے ہڑتال کی اور مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا۔صدر بار میاں سہیل اختر ،جنرل سیکرٹری میاں امجد اصغر ،ممبران بار کونسل جام محمد یونس ،سید منصور احمد شاہ ،سید شاہد مزمل شیرازی ،رانا امجد علی امجد ،رانا واجد علی ایڈ ووکیٹ ،آزاد بخت خان ،سید سجاد احمد گیلانی ،عبدالقیوم دستی ،محمد سلیم خان سمیت وکلاء نے مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔میلسی سے نامہ نگار کے مطابق میلسی بارنے مکمل ہڑتال کی وکلاء عدالتوں میںپیش نہیں ہوئے۔ محسن وال سے نامہ نگار کے مطابق بار ایسوسی ایشن میاں چنوں نے مکمل ہڑتال کیا ور کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوا۔