مقبوضہ کشمیر: بھارت کی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مظاہرے، فورسز پر پتھراؤ، آزادی کے حق میں نعرے

17 اپریل 2018

سرینگر(اے این این‘ آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں شوپیاں،کولگام اور دیگر علاقوں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی شہادتوںکیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ،تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند،مختلف علاقوں میں لوگوں کے مظاہرے،بھارت مخالف نعرے بازی،انٹر نیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل،کئی علاقوں میں سکول بھی نہ کھل سکے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے بیشتر اضلاع میں شوپیاں ،کولگام،انت ناگ اور دیگر اضلاع میں حالیہ دنوں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی شہادت پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ وادی کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے سڑکیں بلاک کر کے ایک بار پھر احتجاج کیا اور بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔اس دوران ،کنگن،حاجن اور کولگام میں لوگوں نے بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ادھر تحریک حریت،تحریک مزاحمت،دختران ملت ،مسلم لیگ،حریت(جے کے)،سالویشن مومنٹ،پیپلز پولٹیکل فرنٹ اور پیپلز پولیٹیکل پارٹی نے چھترگل کنگن کے عامر حمید لون کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کشمیریوں کے خون کے اتنے پیاسے ہوگئے ہیں راہ چلتے جوانوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا فورسز اور یہاں کے حکمرانوں نے ہماری نوجوان نسل کو قتل گاہ میں لاکھڑا کردیا ہے۔پچھلے ایک ماہ سے کئی نہتے شہریوں کومارا گیاگیا، سینکڑوں جوانوں کو گولیوں اور پیلٹ گنوں سے یا تو زخمی کردیا گیا یا آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا گیا۔ صحرائی نے کہا کہ جموں کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں جنازوں میں شرکت کرنے اور پرامن احتجاج میں شامل ہونے والوں کو گولیوں سے ابدی نیند سلایا جاتا ہے یا عمر بھر کیلئے آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا جاتا ہے۔بھارتی حکمرانوں کو یہاں کے زمینی حقائق تسلیم کرنے چاہئیں۔تحریک مزاحمت کے ترجمان شبیر احمد زرگر نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کو کشمیری عوام کے خون کی لت لگ چکی ہے اور وہ طاقت کے بے تحاشا استعمال سے عوامی جذبہ آزادی کو دبانے کی ناکام پالیسی پر عمل پیرا ہے۔دختران ملت نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ نے فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ اب ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جب ہم کو اپنے کسی عزیز کے جنازے کو کندھا نہیں دینا پڑتا ہے۔ جنگل میں بھی کچھ قانون ہوا کرتے ہیں لیکن جموں و کشمیر ایک ایسی جگہ ہے جہاں جرم کا شکار ہوئے لوگوں کو ہی ہراساں کیا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے۔ادھر سابق چیئرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے چھتر گل کے معصوم طالب علم محمد عامر لون جو بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئے کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے افواج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں کسی بھی مہذب سماج کے لئے ناقابل برداشت ہیں ۔ بڑے عوامی اجتماعات سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قرآنی ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیور قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے شہداء کے خون کا معاوضہ بجلی ، پانی ، سڑک اور ملازمت جیسے حقیر مفادات کی صورت میں مانگنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ ہمارے شہداء کی قربانیاں تقدس میں حرم سے بڑھ کر ہیں ۔جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں پاکستان بھارت فوجی سربراہان کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کی خاطر اقدامات کریں۔بھارت کے فوجی سربراہ نے طاقت اور تشدد کو لاحاصل قرار دیا جبکہ پاکستان کے فوجی سربراہ نے مسائل کے تصفیہ کی خاطر مذاکرات کی راہ اپنانے پر زور دیا۔ لہذا دونوں ممالک کی سیاسی قیادت پر لازم آتا ہے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کریں۔مزید براں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک اور معصوم کشمیری جوان کا بہیمانہ قتل اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ظالموں اور جابروں کی نظر میں کشمیریوں کا خون سستا اور بے وقعت ہے ۔ چھتر گل کنگن کے عامر احمد لون قتل کے خوگر بھارتیوں کی گولیوں کا شکار بنے ہیں جو کشمیر کے اندر انسانیت کو بے رحمی کے ساتھ کچلنے میں مصروف ہیں۔
مقبوضہ کشمیر