بھارتی عدالت نے مکہ مسجد حیدرآباد میں بم دھماکہ کے تمام انتہا پسند ہندو ملزمان بری کردئے

17 اپریل 2018

حیدرآباددکن(آئی این پی) بھارتی عدالت نے تاریخی مکہ مسجد دھماکے کے تمام ہندو انتہا پسند ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کی خصوصی تحقیقاتی عدالت نے کئی برس تک چلنے والے مکہ مسجد دھماکے کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں، اس لیے انہیں بری کیا جاتا ہے۔ بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد کی تاریخی مکہ مسجد سے ملحقہ چار مینار میں 18 مئی 2007 کو نماز جمعہ کے دوران بم دھماکے میں9 افراد جاں بحق اور50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد مسلمانوں کے احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے بھی5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ واقعے کی ذمہ داری ہندو انتہا تنظیم آر ایس ایس سے منسلک ذیلی تنظیم ابھینو بھارت نے قبول کی تھی۔بعدازاں حیدرآباد پولیس نے واقعے کو حرکت الجہاد اسلامی نامی فرضی تنظیم کی کارروائی سے جوڑتے ہوئے 200 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ جن میں سے 21 پر باقاعدہ مقدمہ بھی چلایا گیا تاہم عدالت نے تمام ملزمان کو رہا کرتے ہوئے اس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپی، بعدازاں تحقیقات بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے سپرد کی گئی۔این آئی اے نے تحقیقات کے دوران شواہد اور 226 گواہان کے بیانات کی روشنی میں 10 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا تھا۔ ان نامزد ملزمان میں ایک ہندو انتہا پسند رہنما سوامی اسیم آنند بھی تھا جو 2006 میں مالیگاں، 2007 میں اجمیر میں خواجہ غریب نواز کے مزار اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کے واقعات میں بھی نامزد تھا تاہم اسے بری کردیا گیا تھا۔سوامی اسیم آنند نے دوران تفتیش اپنے اقبال جرم میں کہا تھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے مکہ مسجد، درگاہ اجمیر شریف اور ملک کے دیگر حصوں میں دھماکے کئے ہیں تاہم بعد میں وہ اپنے بیان سے پھر گیا اور موقف اختیار کیا اس نے این آئی اے کے دبا میں آکر اس طرح کا بیان دیا ہے۔
بھارتی عدالت