مہنگا دودھ بیچنے کیخلاف کمشنر کی کارروائی دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے

17 اپریل 2018

کراچی میں دودھ کی قیمتوں کے معاملہ پر گزشتہ ایک ماہ سے حکومت اور دودھ فروشوں کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے ،جو بظاہر تو حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر 94 روپے فی کلو قیمت مقرر کردینے سے ختم ہوگیا لیکن دودھ فروشوں کی جانب سے اس قیمت کو قبول نہیں کیا گیا اور حکم کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے جس کے خلاف کزشتہ دنوں کمشنر کراچی کے حکم پر حکومتی کریک ڈائون میں 51 دکانداروں کا چالان کیا گیا‘ 10 کو جیل بھیج دیا گیا جبکہ تقریباً 2 لاکھ 51 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ صوبے بھر اور خصوصاً کراچی میں گراں فروشی بھی دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ عروج پر ہے دیکھا جائے تو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ البتہ دودھ والوں نے اندھیر مچا رکھا تھا جس پر کمشنر صاحب نے توجہ دی اور اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کوششیں بھی کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمتیں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مقرر کی ہیں اس کے باوجود اگر کوئی مہنگا بیچتا ہے تو وہ قانون کی خلاف ورزی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرتا ہے اور عوام کے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی کمشنر کراچی کے مذکورہ بیان سے ان کی نیک نیتی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے خلوص ظاہر ہے ان کا یہ اقدام بلاشبہ سراہے جانے کے لائق ہے امید ہے کہ وہ نہ صرف دودھ اور دہی کی قیمتوں میں استحکام رکھیں گے بلکہ دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں کی طرف بھی توجہ دیں گے۔