جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر گولی فاصلے سے چلائی گئی : ابتدائی رپورٹ

17 اپریل 2018

لاہور (نوائے وقت رپورٹ) لاہور میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابھی تک ملزمان کا پتہ نہ چل سکا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی کسی مشکوک شخص کے شواہد نہیں ملے۔ فرانزک رپورٹ گزشتہ روز پولیس کے حوالے کر دی گئی۔ ابتدائی رپورٹ جسٹس ثاقب نثار کو ارسال کر دی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس نے واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کی ہے اس کے مطابق فائرنگ کے واقعے سے پولیس کو صبح 10 بجکر 45 منٹ پر آگاہ کیا گیا۔ پاکستان رینجرز کے شفٹ انچارج نائیک عبدالرزاق نے شکایت درج کروائی۔پولیس رپورٹ کے مطابق جسٹس اعجاز کے گھر کے مین گیٹ کے بالائی حصے پر گولی لگی، پنجاب فرانزک ایجنسی کو تجزیہ کرنے کے لیے بلایا گیا، جس نے تمام شواہد اور ریکارڈ کو محفوظ کرلیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق گولی کافی فاصلے سے فائر کی گئی جس سمت سے گولی آئی تھی اس پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس ضمن میں قریبی علاقوں میں سرچ آپریشنز بھی کیے گئے ہیں۔ پنجاب فرانزک ایجنسی نے موقع سے ملنے والی گولی فائر آرمز اینڈ ٹول مارکس میں مشاہدے کےلئے بھجوا دی ہے۔ماڈل ٹاو¿ن میں جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ ہوئی تھی۔ فائرنگ کے واقعات ہفتے کی شب10:45 منٹ پر اور اتوار کی صبح 9:45 منٹ پر پیش آئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور وہ صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا ہے جس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دریں اثناءچیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے پنجاب حکومت کی طرف سے ججز کی سکیورٹی بڑھانے کی پیشکش مسترد کر دی۔ اعلامیہ سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ ججز کو اضافی سکیورٹی کی ضرورت نہیں، ججز کو معمول کی سکیورٹی ہی کافی ہے۔ عام شہریوں کی حفاظت کیلئے امن و امان میں بہتری لائی جائے۔
فائرنگ/تحقیقات

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...