میلہ چراغاں 2018ء

17 اپریل 2018

سیف اللہ سپرا
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب کے زیر اہتمام گزشتہ ہفتے معروف صوفی شاعر شاہ حسین کی یاد میں تین روزہ ’’میلہ چراغاں 2018ئ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح بیگم ذکیہ شاہنواز وزیر ماحولیات، پنجاب نے چراغ روشن کر کے کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل پِلاک اور ان کی ٹیم کے فن و ثقافت کے فروغ میں کردار کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی اور کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ میلہ سرحد پار تک منایا جاتا تھا اور پورے لاہور میں سرکاری چھٹی ہوتی تھی۔ سارے شہر کو دلہن کی طرح سجایا جاتا تھا۔ انہوں نے اس ثقافتی روایت کو ازسر نو بحال کرنے پر ڈی جی پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر صغرا صدف، ڈائریکٹر جنرل پِلاک نے انہیں چنری پیش کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پِلاک اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کر کے فن و ثقافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ افتتاحی تقریب کے بعد ڈھول کی تھاپ پر صوفی رقص / دھمال بھی پیش کی گئی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس میلے میں تصویری نمائش’’کلرز آف پنجاب‘‘، پنجابی کھابے، کتاب میلہ اور بچوں کے لئے مختلف کھیلیں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ معروف گلوکاروں پروفیسر محمد جواد اور سجاد بیلا نے اپنے مخصوص انداز میں شاہ حسین ؒ کی کافیاں پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ میلے میںہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔
’میلہ چراغاں 2018ئ‘‘ کے دوسرے روز ’’شاہ حسین کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں ’’شاہ حسین تے اج دا سماج‘‘ اور ’’شاہ حسین دے شعری فلسفے دا بنیادی سنیہا‘‘ کے موضوع پر مختلف سیشن ہوئے۔ اس موقع پر نامور دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں مشتاق صوفی، قاضی جاوید، ڈاکٹر دلشاد ٹوانہ، ڈاکٹر اختر جعفری، منصور آفاق، احسان رانا، سلطان علی رانجھا، ڈاکٹر غلام حسین ساجد، اکرم شیخ، پروفیسر محمد زبیر، عمرانہ مشتاق، بینا گوئندی شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ شاہ حسین پہلے ترقی پسند شاعر ہیں اور ایک بڑے شاعر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کے کلام کے کئی معانی و مطالب ہوتے ہیں۔ یہ خوبی ان کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر صغرا صدف نے کہا کہ شاہ حسین کی شاعری کی بنیادی فکر انسانیت سے پیار ہے۔ ان کی شاعری میں امن، محبت اور رواداری کے درس کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے کو جنت نظیر بنایا جا سکتا ہے۔ نظامت کے فرائض خاقان حیدر غازی اور ملک ممتاز نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس کے بعد گائیکی صوفیانہ کلام میں معروف گلوکاروں سجاد بری، راحیل وقاص، ناہید طالب اور احمد علی قمر نے پرفارم کر کے جبکہ اسرار نبی بخش نے سارنگی پر دلفریب دھنیں بکھیر کر ہزاروں کی تعداد میں شریک شائقین سے بھرپور داد وصول کی۔ شام کو معروف صوفی گلوکارہ حنا نصر اللہ نے شاہ حسین کے کلام کو اپنی جادوئی آواز کے سُر سے آراستہ کر کے پورے ماحول کو سحر انگیز کر دیا۔ حبیب اللہ، سلطان علی رانجھا، خالد رامے اور ڈاکٹر صغرا صدف نے حنا نصر اللہ کو گلدستے پیش کئے۔ ڈاکٹر صغرا صدف، ڈائریکٹر جنرل پِلاک نے کہا کہ پنجاب صوفیاء کی دھرتی ہے اور یہ ہمارا مان ہے کہ اس دھرتی سے ایک بہت بڑی صوفی گلوکارہ نے دنیا میں اپنی منفرد پہچان سے پنجاب کا شملہ بلند کیا ہے۔ حنا نصر اللہ صوفیانہ کلام کے ذریعے معاشرے میں خیر کی تبلیغ کر رہی ہیں جو بہت خوش آئند ہے۔
’’میلہ چراغاں 2018ئ‘‘ کے آخری روز ’’پنجابی ادبی، ثقافتی تنظیماں دا ماں بولی دے ودھا وچ کردار‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پنجابی تنظیموں کے اہم عہدیداران نے شرکت کی جن میں مشتاق صوفی، علی احمد گجراتی، بشیر حسین بھٹی، ڈاکٹر میاں ظفر مقبول، ڈاکٹر جمیل احمد پال، احمد رضا پنجابی، ڈاکٹر عباد نبیل شاد، عامر بٹ اور شفیق بٹ شامل تھے۔ تمام عہدیداران نے اپنی تنظیموں کی کارکردگی پر روشنی ڈالنے کے علاوہ پنجابی زبان و ثقافت کے فروغ کے لئے تجاویز بھی پیش کیں جن میں سرفہرست یہ تھی کہ پرائمری سطح سے لے کر بی اے تک پنجابی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے اور پنجابی تنظیموں کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تا کہ ان کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
پِلاک کی طرف سے پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کے شعبہ میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والی شخصیات کو ’’پِلاک کلچرل ایوارڈ‘‘ اور ’’شاہ حسین ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا جو کہ مبلغ ایک لاکھ روپے اور اسناد پر مشتمل ہیں۔ فلم کے شعبہ سے وابستہ حسن عسکری، محمد کمال پاشا، الطاف حسین اور دائود بٹ کو ’’پِلاک کلچرل ایوارڈ‘‘ جبکہ ضیاء شاہد (خبریں)، مدثر اقبال بٹ (بھلیکھا)، ڈاکٹر جمیل احمد پال (لوکائی) کو ’’شاہ حسین ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ کرنل (ر) نادر علی کو ’’شاہ حسین لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔
شام کو محفلِ سماع کا انعقاد ہوا جس میں عالمی شہرت یافتہ قوال شیر میاں داد و ہمنوا، بشریٰ صادق و ہمنوا، ندیم جمیل خاں و ہمنوا اور ریاض قادری نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام منعقد کرنے کا مقصد عام لوگوں کو بغیر کسی معاوضہ کے تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کلچر سے قریب کرنے کی سعی کرنا ہے۔ نظامت کے فرائض خاقان حیدر غازی اور ملک ممتاز نے سرانجام دیئے۔