ٹی وی اور فلم ا داکار اظہار قاضی

17 اپریل 2018

شا ہد لطیف
میںپاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام سے نیا منسلک ہوا تھا۔ایک روزاپنے دوست ڈاکٹر شاہد بشیر کے ہاں اُس کے ہم جماعت، کھلاڑی اور ایتھلیٹ اسرار قاضی سے ملاقات ہوئی ۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگا کہ میرے بڑے بھائی کو گانے کا شوق ہے آپ ان کو سُن لیں ۔ ایک روز میں شاہد بشیر کے ہاں گیا تو وہاں اسرار کے ہمراہ ایک لڑکے کو بیٹھا دیکھا جو ایک نظر میں بھارتی اداکار امیتابھ بچن سے مشابہہ لگا۔ ’’ یہ میرے بڑے بھائی ا ظہار ہیںــ‘‘۔اسرار نے خوش ہوتے ہوئے تعارف کروایا۔اُس نے ایک مشہور گیت سنایا۔ آواز سے زیادہ اُس کی شکل و صورت اور قد و قامت متاثر کُن تھے۔میں اسے مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا : ’’ ماڈلنگ، گلوکاری سے زیادہ آسان ہے، اِس میں آ جائو اور پھر اگر قسمت نے یاوری کی تو اداکاری بھی … ‘‘۔ میں نے کہا۔
’’ اداکاری؟‘‘ ۔اظہار نے مسکرا کے کہا۔
’’ ہاں ہاں کیوں نہیں ! آج کل فاطمہ ثریا بجیا اپنے ٹی۔وی۔سیریل ’ انا ‘ میںنئے چہروں کی تلاش میں ہیں ۔کہو تو اُن سے مِلوائوں؟‘‘۔ میرا اس سیریل سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن بجیا، ’’ جگت ‘‘ بجیا تھیں، ہر ایک کے ساتھ ایسا رویہ تھا گویا وہی سب سے عزیز ہے۔یہ کمتر بھی اُن میں شامل تھا۔ اسے تاکید کی کہ تم ابھی بجیا کے گھر چلے جائو ساتھ ہی اسے بجیا کے گھر کا پتا سمجھا دیا۔اس نے ایسا ہی کیا ۔ بجیا نے خود مجھے اظہار کے انتخاب کا قصہ سنایا۔ہوا یوں کہ جب وہ اُن کے ہاں پہنچا تو سلام کر کے ایک طرف بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد بجیا نے لوگوں کی چہ مگوئیاں سنیں کہ فلاں لڑکا کس قدر امیتابھ بچن سے مشابہہ ہے۔ بجیا نے اسے بلایاتو اس نے میرا حوالہ دیا ۔ انہوں نے فوراََ ایک بندے سے کہا کہ وہ جو ایک خاموش کردار ہے وہ اس بچے کو دے دو۔ یوں اظہار کی اسکرین پر پہلی آمد میں کوئی مکالمہ نہیں تھا۔اس کے باوجود اس نے اِس مختصر سے کام کو بھی بہت دلجمعی سے کیا۔ ابتدا میں اُس کی شہرت کی وجہ امیتابھ سے مشابہت تھی۔ جب پورے ملک میں اس کا چرچا ہوا تو وہی خاموش کردار، مرکزی کردار میں ڈھل گیا۔۔ اتفاق سے اُس نے کبھی میرے کسی ڈرامہ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ 
کافی عرصے بعد اظہار سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا :’’ نذر شباب فلم ’ روبی ‘ بنا رہے ہیں اس میں ہیرو کا کردار جاوید شیخ کو ادا کرنا تھا مگر وہ نہیں آ رہا لہٰذا ایور ریڈی فلمز کے ستیش آنند نے مجھے اِس کردار کی پیشکش کی ہے۔سوچتا ہوں جائوں یا نہیں ! ‘‘۔ صاف لگ رہا تھا کہ اظہارشش و پنج میں مبتلا ہے ۔’’ میرا خیال ہے کہ اپنی پکی نوکری نہ چھوڑو ‘‘۔میں نے رائے دی۔بہر حال وہ آخری فیصلہ کرنے کا حق رکھتا تھا ۔جلد ہی اس کے بارے میں اطلاع آ گئی کہ وہ لاہور منتقل ہو گیا ہے۔’ روبی ‘ ایک کامیاب فلم رہی ۔ اُدھر فلمساز و ہدایتکار جان محمد ،جاوید شیخ کی غیر ذمہ داریوں سے تنگ آ ئے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے اپنی فلم ’ بینکاک کے چور ‘ میں جاوید شیخ کو ہٹا کر اظہار کو رکھ لیا۔ امیتابھ بچن سے مشابہت اپنی جگہ لیکن اظہار نے اپنے حصہ کا کام بہت توجہ اور محنت سے کیا اور اپنی فنکارانہ صلا حیتوں کا لوہا منوا لیا۔ آگے چل کر اسے 1991 میں فلم ’’ بخت آور ‘‘ اور 1992 میں فلم ’’ سخی بادشاہ ‘‘ پرنگار ایوارڈ ملے ۔ 
1982سے ٹی وی ، اور1986 سے فلم کا شروع ہونے والا یہ سلسلہ2005تک چلاپھر اظہار قاضی نے اداکاری ترک کر کے اپنی پوری توجہ پراپرٹی کے کاروبار کی طرف کر دی۔ اظہار قاضی کا آخری کام ٹی وی سیریل ’ پانی پہ نام ‘ ہے جو پی ٹی وی سے نشر ہوا ۔ ذیل میں جان محمد کیساتھ فلمسازی کی کچھ فلموں کی تفصیل درج ہے:
روبی( 1986)، منیلا کی بجلیاں(1987)، چوروں کا بادشاہ ( 1988) ، منیلا کے جانباز ( 1989)، انٹرنیشنل گوریلے ( 1990)، تین یکے تین چھکے ( 1991)، عبداللہ دی گریٹ ( 1992)، گھنگھرو دا کلاشنکوف (1993)، سب کے باپ ( 1994)،  خزانہ ( 1995)، گھائل ( 1997)، حوا کی بیٹی ( 1999)، دامن اور چنگاری (2004) اور پرچم (2005)۔
اداکار اظہار قاضی کے ٹیلی وژن ڈرامے: ’انا‘،’ دائرے‘،’ گردش‘،’ زخم‘،’ گناہگار‘ اور’ پانی پہ نام‘ ہیں۔ 
اظہار قاضی نے جِن فلمی اداکارائوں کے ساتھ کام کیا اُن کے نام ثنائ، صائمہ، نرگس، سپنا، ریما، شبنم، بابرہ شریف، صاحبہ، مدیحہ شاہ، نادرہ، انیتا ایوب، بہار بیگم، صبیحہ خانم، نیلی، گوری، نادیہ، سونیا، روبی نیازی، سلمیٰ آغا، کویتا، سیماب،انجمن، سبیتا، نازاں سانچی اور ششما شاہی ہیں۔اورجِن اداکاروں کے ساتھ کام کیا وہ شان، ارباز خان، بابر علی، ندیم، سلطان راہی، غلام محی الدین، محسن خان، معین اختر، سعود، شفیع محمد، جاوید شیخ، جان ریمبو، ہمایوں قریشی، عجب گل، رنگیلا، آصف خان، جہانزیب، اسماعیل شاہ، مصطفیٰ قریشی، طالش،بدر منیر، ادیب
 اور گلوکار محمد علی شہکی ہیں۔
 2002میں جان محمد کے انتقال کے بعد اظہار کا فلمسازی جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ یہ دوسرے ممالک میں فٹا فٹ اور سستا کام کرنے کے عادی تھے۔فلمی دنیا میں کوئی اور ’’ جان محمد ‘‘ لاہور تو کیا کراچی میں بھی دور دور نہیں تھا۔ 
اظہار کوئی بہت زیادہ گھلنے ملنے والا شخص نہیں تھااسی لئے فلمی دنیا میں اسکینڈلوں سے محفوظ رہا جب کہ اُس نے شبنم سے لے کر اداکارہ ثناء تک تقریباََ 24اداکارائوں کے ساتھ کام کیا۔مزے کی بات یہ کہ فلم بینوں نے اظہار کیساتھ ان سب کی جوڑی کو پسندبھی کیا۔
 23دسمبر2007 کو جب خبر ملی کہ اظہار قاضی کا انتقال ہو گیا تو… اُس کا ٹی وی میں گلوکاری کرنے کا شوق اور مجھے گیت سنانا … یاد آ گیا۔صرف 52 سال کی عمر میں ؟ میں حیران رہ گیا انا للہ … اظہار قاضی اپنی عمر کا بہترین حصہ فلمی صنعت کو دے کر عزت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا۔