کیا نوازشریف کا سیاسی گیپ عمران خان پُر کر سکیں گے ؟

17 اپریل 2018

قائداعظم محمد علی جناح کی اچانک اور بے وقت رحلت سے نوزائیدہ مملکت پاکستان آغاز سے ہی مدبر اور ویژنری قیادت سے محروم ہو گئی اور پھر ایک لمبی سیاسی دلدل میں اور ڈکٹیٹر شپ کے بھنور میں پھنسے رہنے کے بائیس سال بعد قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں قومی اور بین الاقوامی رہنما ملا مگر بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد پاکستان ایک دفعہ پھرسیاسی انحطاط کا شکار ہوا اور بوٹوں نے امنگوں کو کچل دیا۔ بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دو دفعہ اقتدار میں آنے کے باوجود پانچ سال بھی اقتدار کے پورے نہ کر سکیں اور باپ کی طرح سازشوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ قارئین اب بات کرتے ہیں میاں نوازشریف کی جنہوں نے غلط مشیروں کی وجہ سے بے شمارایسے فیصلے کئے جنہوں نے ان کے لیے بعدازا ں مسائل پیداکئے۔ بیس سال پہلے دوسری دفعہ جب وہ وزیراعظم کا عہد گزار رہے تھے تو انہوں نے راقم کے خلاف بھی بے شمار جھوٹے اور غیر حقیقی کیسز بنا دیئے ۔وہ راقم کے خلاف کیسز میں بذاتِ خود مدعی بنے تھے۔ بس اُسی دن سے میں نے یہ عزم اور تہیہ کر لیا تھا کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل استعمال کرکے ایک دفعہ میاں صاحب کو اس منصب سے نیچے لانے میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب جب میاں صاحب کو حتمی طور پر نااہل قرار دیا گیا ہے تو اس کی وجہ صرف میں ہوں مگر میں نے کم از کم زیرو پوائنٹ ون پرسنٹ اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جٹ اور ہاتھی کبھی اپنا انتقام نہیں بھولتے۔ تو شاید میرے اور میاں صاحب کے درمیان بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ میاں نوازشریف صاحب کو نااہل قرار دیا گیا اور انھیں منصب وزیراعظم سے اتارا گیا تو یقینا میں خوش ہوا اور اسے اپنی اخلاقی فتح جانا مگر میاں صاحب کو دوسری بار تاحیات نااہل قرار دیا گیا تو یقینا مجھے دکھ ہوا کیونکہ ہماری اسلامی روایات میں گرے ہوئے کو اوپر سے اور مارنا زیب نہیں دیتا۔ اور اس دفعہ بھی میاں صاحب اپنے مشیروں اور وزیروں کے ہاتھوں انجام کو پہنچے۔ میاں صاحب نے یقینا سیاست میں ایک بڑا نام پیدا کیا اور اسی لیے تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے اور یقینا وہ لاکھوں دلوں میں آج بھی بستے ہیں اگر اپنی گورنس کی غلطیوں کی وجہ سے اور مشیروں کی مہربانیوں کی وجہ سے آج انہیں سیاست مزید جاری رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ میاں محمد نوازشریف کے سیاسی وارثین موجود ہیں۔ ان کے بھائی میاں شہباز شریف جو پچھلے تیس سال سے پنجاب کی مسندِ اقتدار اور پنجاب کی سیاست میں ایک بِلامقابلہ اور واحد لیڈر کے طور پر پہچانے جانتے ہیں جبکہ ان کے انتہائی فعال بیٹے حمزہ شہباز بھی سیاست کے میدان کار زار میں ایک دبنگ حیثیت رکھتے ہیں جبکہ محترمہ مریم نواز کو ہر لحاظ سے بلاول بھٹو سے بہتر تقریر کی صلاحیت حاصل ہے اور پنجاب کے عوام میں وہ مقبولیت کی انتہا پر ہیں۔قارئین! ان عوامل کی موجودگی میں نوازشریف کے چلے جانے کے بعد سیاسی طور پر کارنر ہونے کے باوجود ان کی چھوڑی ہوئی خالی جگہ اور سیاسی گیپ کو پُر کرنا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میری سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ہاتھوں ہوئی اور آٹھ سال تک میں ان کی شاگردی میں سیاست کے رموز و اسرار سیکھے۔ اور آج ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سیاسی پیشین گوئی کرتا ہوں کہ نوازشریف کا چھوڑا ہوا گیپ پُر کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں۔ عمران خان مقبولیت اورسیاست کی جس بلندی پہ آج بیٹھے ہیں اس سے کہیں بہتر ان کی پوزیشن 2013ءکے جنرل الیکشن سے پہلے تھی اور ایک خاص نقطہ بھی قابل غور ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کو ڈیڑھ سو یا پونے دو سو قومی اسمبلی کی نشستوں کے ساتھ قابل قبول ہوگا؟ یا پچاسی یا پھر پچانوے سیٹوں کے ساتھ دوسری درجن بھر چھوٹی سیاسی پارٹیوں کو پانچ ،دس اور پندرہ سیٹیں ہر پارٹی کو دلوا کر ایک ہنگ پارلیمنٹ قائم کی جائے گی تاکہ اپنی مرضی کا ایک زیر اثر وزیراعظم منتخب کر لیا جائے جو اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو من و عن اور چوں چاں کیے بغیر تسلیم کرے۔ کوئی بھی سیاسی طالب علم اندازہ لگانے میں یہ غلطی نہیں کر سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدار تھالی میں رکھ کر پیش کرے گی۔ ابھی گذشتہ مہینے اسٹیبشلمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان کچھ معمولی اختلاف پر جہانگیر ترین کو پہلے نااہل کرکے گھر بھیجا گیا اور پھر اس حلقے سے اس کے بیٹے علی ترین کو عبرت ناک شکست ہوئی۔جس سے تحریک انصاف کی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہم سے پنگا لو کے تو نتائج اسی طرح کے آئیں گے۔ شاید اسی نعرے پہ تحریک انصاف نے کمپرومائز کر لیا ہے کہ ”پاکستان میں رہنا ہو گا تو جئے اسٹیبلشمنٹ کہنا ہوگا“
دوسرا نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے کل قرضے اس وقت ۸۸ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکے ہیں اور بقول عمران خان پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ پینتیس ہزار کا مقروض ہے اور آئی ایم ایف ہمارے گھر کے دروازے کو کھٹکھٹا نہیں رہا بلکہ دونوں ہاتھوں سے پیٹ رہا ہے۔ معاشی بدحالی کا اگر یہی عالم ہے تو عمران خان کے پاس کون سا اکانومی پلان ہے؟ کیا عمران خان نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ہے یا عمران کے پاس نوازشریف سے بہتر ماہر معاشیات موجود ہیں؟ کیا صرف ڈھول تماشے اور جلسوں کی دو سینچریاں مکمل کرکے ملک کی معاشیات بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اب تک پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی شخصیات کا تعلق ق لیگ ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے ہے اور وہ صرف پی ٹی آئی کی واشنگ مشین سے لانڈرنگ کروا کے نیا حلال سیاسی ٹوکن حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس وقت حالت یوں ہے کہ عمران خان کے پاس ہر حلقے میں آدھ درجن سے زائد امیدواران موجود ہیں جب ٹکٹ صرف ایک کو ملے گی تو پاکستان میں اتنا ہائی گریڈ ٹالرینس ہے کہ باقی ممبران ٹکٹ ہولڈر کو سپورٹ کریں؟
جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب عمران خان اور پی ٹی آئی کی حالت اس وقت پھل سے لدھی اُس بیری کی طرح ہے جس کی ٹہنیاں اور شاخیں اپنے ہی بوجھ سے کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ قارئین! ایک بات میری دل پہ لکھ لیں کہ اسٹیبشلمنٹ اور سوموٹو کی عادات کے ساتھ ہماری عدلیہ کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ بروقت الیکشن کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ 20مئی تک حالات ایسے کر دیئے جائیں گے کہ الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں رہے گایا یوں کہیے کہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسریا اور نوازشریف کا گیپ صرف اس کے سیاسی وارث ہی پُر کر سکتے ہیں۔

یادگار پُر خطر سفر

دنیا کی بلند ترین عمارت کی 125ویں منزل پر موجود دو سردار علم، حکمت اور دانش کے ...