ستارے بتاتے ہیں۔۔۔کون ہوگا نگران وزیراعظم!

17 اپریل 2018

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی گیا وقت واپس آ سکتا ہے۔ میاں نوازشریف کو جس کیس میں تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے اس کیس میں میاں نوازشریف نے خود فریق بننے سے انکار کیا تھا، میاں نوازشریف نے متعدد بار کہا کہ عدالت ان کو تاحیات نااہل کرنا چاہتی ہے۔ ایک موقع پر طنزکے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ اب میرا نام بھی چھین لیں۔ وہ اس کیس میں فریق بنے ہوتے تو اپنا مو¿قف بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ سپریم کورٹ کے سامنے رکھ سکتے تھے جو قوم سمیت پوری دنیا کے بھی سامنے آجاتا۔ اپنے لہجے میں کچھ نرمی لاکر بھی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات موجود تھے۔ نہال ہاشمی کی مثال سامنے ہے، انہوں نے سپریم کورٹ کی دوسری مرتبہ بھی توہین کیا تضحیک اور تذلیل کی تھی۔ سزا سے بچنا ناممکن تھا مگر وہ عدالت کے روبرو شرمندگی سے پیش ہوئے گویا قدموں میں لوٹتے نظر آئے۔ سپریم کورٹ کے ان کے بارے میں سخت ریمارکس اور ناقابل معافی عزائم تھے۔ مگر بالآخر وہ اپنے رویے سے فاضل جج حضرات کو رام کرنے میں کامیاب ہوئے اوریقینی سزا سے محفوظ رہے،ا سکے بعد وہ تکلے کی طرح سیدھے ہوچکے ہیں۔ میاں نوازشریف اور ان کے کچھ جذباتی ساتھی عدلیہ کے بارے میں بہت کچھ کہہ چکے ہیں مگر ایسا نہیں جیسا نہال ہاشمی نے اخلاقیات کی تمام حدین عبور کرتے ہوئے کہا تھا، مگر اب اکثر لیگی لیڈروں کی عدلیہ کے حوالے سے تو پیں خاموش ہیںیا اب پہلے جیسا گولہ باری کا تسلسل نہیں رہا۔ نہال ہاشمی کی صورت میں مثال ان کے سامنے ہے۔”جذبات کے شہزادے“ دانیال عزیز اور طلال چودھری توہین عدالت کے نوٹس ملنے پر کھمبا نوچتے نظر آ رہے ہیں۔عدالت میں جا کر اپنے جذباتی بیانات کی نفی کر دی ہے۔ نہال ہاشمی نے بھی عدالت میں کہا کہ انہوں نے” تمہاری زندگی حرام کر دیں گے“ جیسے الفاظ ججوں اور جے آئی ٹی کے ارکان کیلئے نہیں کہے تھے۔ آصف زرداری نے فوج کوایک اجتماع کے دوران مخاطب کرکے کہا تھا کہ تم تین سال کے آئے ہو، ہم نے ہمیشہ رہنا ہے،تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ مگر بعد ازاں صاف مکر گئے کہ یہ الفاظ فوج کیلئے نہیں تھے۔ دانیال عزیزاور طلال چودھری اور کئی دیگرآج کے نواز لیگ کے فرنٹ لائن لیڈر پرویز مشرف کی پروردہ ق لیگ کے دلارے تھے۔ ق لیگ کے لاغر وجود کو آج پھر معجون کھلا کر کھڑا کیا جا رہا ہے۔ شاید اس کی بھنک پرانے ساتھیوں کو پڑ گئی اور وہ قبلہ بدلنے کیلئے کوشاں ہوں۔ بات کردار کی ہے جو کیا اورکہا اس سے قائم بھی رہیں۔ ظفر اقبال نے تو کہا ہے: جھوٹ بولا ہے تو اس پر قائم بھی رہو ظفر، آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے۔ ان لوگوں نے تو جھوٹ بھی نہیں بولا جو کہا اپنے ضمیر کے مطابق کہا ۔ ریلوے کو پستیوں کی پاتال سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر لے جانے والے خواجہ سعد رفیق بھی میاں نوازشریف کے خلاف عدالتی فیصلوں پر بے قابو ہو جایا کرتے تھے۔ ان کو ریلوے میں اصلاح کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ اس دوران اگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو اس کا سپریم کورٹ کی طرف سے طلب کردہ جواب دینا پڑے گا۔
پاناما کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سامنے جب میاں نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ میاں صاحب کھلی کتاب ہیں،اس پر ہلکے پھلکے انداز میں فاضل جج نے کہا، اس کتاب کے کئی صفحے غائب ہیں،اسے خود وکیل نے بھی اسی انداز میں لیااور مسکرا دئیے تھے مگر خواجہ صاحب اگلے روز غصے میں دکھائی دئیے ۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق بظاہر دھمکی دیتے ہوئے گویا ہوئے نواز شریف کی کتاب کے سار ے صفحے پورے ہیں اگر کوئی نہیں پڑھ سکتا تو ہمارا کیا قصور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کمزور اور چبائے جانے والے چنے کا نام نہیں، ہم لوہے کے چنے ہیں اگر کوئی چبانے کی کوشش کرے گا تواس کے دانت ٹوٹ جائیں گے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران جب ان کو چیف جسٹس نے کہا کہ لوہے کے چنے لے کر روسٹرم پر آئیں تو ان کا جواب تھا لوہے کے چنے ثابت ہونگے، عدالت کیلئے نہیںسیاسی مخالفین کیلئے کہا تھا۔ خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ پیشی کے بعد کہہ رہے تھے کہ وہ بڑے دل گرفتہ اور دلبرداشتہ ہیں اگر انہوں نے ماضی میں بیانات سوچ سمجھ کر دیئے ہوتے تو آج ان کو دل برداشتہ نہ ہونا پڑتا۔ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفا داری میں یہی ہوتا ہے۔ میاں نوازشریف کے سب سے زیادہ قریبی عزیز اور بااعتماد ساتھی وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر جناب شہبازشریف ہیں۔ میاں نوازشریف کی پریشانی، تکلیف اور دکھ درد کا احساس ان سے زیادہ کسی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق میاں نوازشریف کی چار مرتبہ نااہلی ہو چکی ہے۔ اس پر ان کا ردعمل بھی موجود ہے مگر بڑی احتیاط کے ساتھ بیانات دیئے ہیں۔ ان کو متعدد بار سپریم کورٹ میں بھی پیش ہونا پڑا مگر وہ جس معاملے میں گئے اسی پر بات ہوئی اور ماحول کسی بھی مرحلے پر ناخوشگوار نہیں ہوا تھا۔بہت سے لوگ پنجاب حکومت کی عمدہ کارکردگی سے حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اس میں کچھ ”اپنے“ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو بھی اندر اور باہر سے کمزور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ میاں نوازشریف قبول کریں یا نہ کریں ان کی تاحیات نااہلیت ہو چکی اور مستقبل میں ان کا کوئی سیاسی کردار نظر نہیں آتا۔ انہوں نے میاں شہبازشریف کو پارٹی صدر بنا دیا۔ میاں شہبازشریف نے خود کو ایک بہترین منتظم ثابت کیا ہے۔ میاں نوازشریف اچھے وقت کا انتظار کرتے ہوئے پارٹی امور مکمل طور پر ان کے حوالے کر دیں جو پورے ملک سے پارٹی کو جتانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے کے لئے کچھ نادیدہ قوتیں سرگرم عمل ہیں۔پروپیگنڈے اور افواہوں کی بنا پر کچھ ایم این ایز اور ایم پی ایز مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی کا رخ کررہے ہیں،کچھ نے پی پی پی،ق لیگ اور خود پی ٹی آئی سے بھی اڑان بھری ہے۔ایسے لوگوں کو مرغ بادنما کہا جاتا ہے۔اس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک تاریخی قول دہرایا ہے کہ جو ہمارے نہ ہوسکے وہ نئے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے بھی نہیں ہونگے۔جو فصلی بٹیروں کو قبول کررہے ہیں،ان کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔اسمبلیاں اب اپنی آئینی مدت کی تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔نگران سیٹ اپ ترتیب پارہا ہے، اس دوڑ میں طفراللہ جمالی،سیدفخر امام،عشرت حسین اور حام ناصر چٹھہ شامل ہیں،البتہ اس سب سے آگے تصدق حسین جیلانی ہیں،ستاروں کا جھکاﺅ بھی تصدق کی تصدیق کرتا نظر آتا ہے،جبکہ ستاروں کی روشنی میں اگلے الیکشن میں عمران خان اور شہباز شریف مقابل نظر آتے ہیں،دونوں کاسٹر لبرا جوقوی ہونے کی علامت ہے،تاہم شہباز شریف کے حاوی ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ہم نے اپنے کالموں میں کئی بار سینٹ کے بروقت انتخابات کی پیشگوئی کی،جوالحمد اللہ پوری ہوئی۔یہ بھی ہم نے ہی کہا تھا کہ شہباز مسلم لیگ ن کے صدر اور بعد ازاں وزیراعظم بھی ہونگے،اس پر شامی صاحب نے حیران ہوکر پوچھا تھا کہ کیا ایسا واقعی ہوسکتاہے۔شہبازشریف ن لیگ کے صدر بنے تو شامی صاحب نے یقین ظاہر کیا کہ اب وہ وزیراعظم بھی بن جائیں گے۔آج ہم پھر وثوق سے کہتے ہیں کہ عام انتخابات معینہ وقت پر ہونگے،ان شاءاللہ۔