نیسکول کے بیرئر شیئرز کبھی مریم نواز کے پاس نہیں رہے‘ واجد ضیاء

17 اپریل 2018

اسلام آباد(نا مہ نگار) احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیلسن اینڈ نیسکول سے متعلق دستاویزات کے حصول کیلئے بی وی آئی حکام کو جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کی نقول طلب کرلی ہیں، واجد ضیا کو خطوط کے جواب بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے، خرابی موسم کی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز لاہور سے اسلام آباد نہ آسکے، عدالت نے باپ بیٹی کی ایک دن کی عدالت حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر تے ہوئے کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی ہے،،دوران جر ح استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے بتایا ہے کہ جن گواہوں کے بیان ریکارڈ کئے انہوں نے کبھی نہیں کہا نیسکول کے بیرئیر شئیرز کبھی مریم نواز کے قبضے میں رہے ہوں ، مریم نواز کے بیان اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مندرجات میں تضاد ہے ،ٹرسٹ ڈیڈ پر درج ہے کہ وہ ان شئیرز کو ہولڈ کریں گی،اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی تو نواز شریف کے داماد کیپٹن(ر)محمد صفدر پیش ہوئے ،جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف اورانکی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے حاضری سے ایک دن کے استثنی کی درخواست پیش کی گئی جس کو عدالت نے منظورکرلیا اور آج(منگل )کو پیش ہونے کی ہدایت کردی ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے گواہ واجد ضیا کے بیان پرپر جرح جاری رکھتے ہوئے سوال کیا کہ آف شور کمپنی نیلسن کے رجسٹرڈ شئیرز کب اور کس کے نام جاری ہوئے تھے؟ تو واجد ضیانے کہا کہ دستاویزات کے مطابق رجسٹرڈ شئیرزچار جولائی 2006کو منروا کے نام پر جاری ہوئے تھے۔انہوں نے کہاکہ نیلسن اور نیسکال سے متعلق دستاویزات کے حصول کیلئے بی وی آئی حکام کو ایم ایل اے لکھا تھا،تاہم جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل اے کا جواب موصول نہیں ہوا، جواب نہ ملنے کی وجہ سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اب نیلسن اور نیسکال کا رجسٹرڈ شیئر ہولڈر کون ہے۔
نواز شریف/ ریفرنس

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...