بچیوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟

17 اپریل 2018

قارئین ! حیرت ہے پچھلے چند ماہ میں معصوم زینب کے ساتھ درندگی اور اس کے بہیمانہ قتل کے بعد اب تک اخباری اطلاعات کے مطابق مزید چھ درجن معصوم بچیوں اوربچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے بلکہ مسلسل ہو رہی ہے درندگی کے بعد ان کو زندہ جلانے ، گلہ دبا کر مارنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے کچرے کے ڈھیروں پر پھینکنے یا نیم مردہ کو کھیتوں میں پھینکنے کی سینکڑوں وارداتیں بھی ہو چکی ہیں مگر قسم لے لیں اگر ایک بھی خبر ان درندوں اور قاتلوں کو عملاً کوئی سزا دینے کے بارے میں آئی ہو محض اخباروں میں لفظی سنسنی پھیلانے اور خبزوں کو سولہ سنگھار سے سجانے کے لئے ایک ایک مصدقہ مجرم بلکہ قاتل کو چار چار بار سزائے موت کی سزا سنانے ، عمر قید کی اطلاع دینے کے علاوہ عملی سزاﺅں کے لئے کارکردگی کا ذکر تک نہیں ہوتا اور اس لئے نہیں ہوتا کیونکہ ان درندوں کو وکیلوں دلیلوں کی آڑ میں جیلوں میں لیٹ کر آرام کرنے مہلت دے دی جاتی ہے ۔ جیلیں ان جیسے درندوں اور دوسرے کئی قسم کے گھناﺅنے جرائم کرنے والے ہزاروں مجرموں سے بھری پڑی ہیں سمجھ نہیں آتی آخر ان کو عبرتناک سزائیں فوری طور پر کیوں نہیں دی جاتیں؟ موقعہ واردات پر رنگے خون آلود ہاتھوں کے ساتھ بھی پکڑے جانے والے مجرم کھانے پینے کی فکر سے آزاد جیلوں میں پڑے آرام سے اینڈھ رہے ہیں۔ یقین کیجئے اگر ایک بھی زانی درندے کو اسلامی سزا کے مطابق سنگسار کر دیا جاتا ، ان کی پھانسی پر لٹکنے کی تصویریں اخباروں میں چھپی ہوتیں ان پر معصوم بچیوں جیسا مساوی خوفناک تشدد کیا جاتا تو آج ہر دوسری خبر معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ درندگی کے بارے میں نہ ہوتی خوفناک جرائم کا تناسب نہ صرف ناقابل یقین حد تک گر جاتا بلکہ سرے سے جرائم ہی ختم ہونا شروع ہو جاتے مگر صد حیف کچی عمر کی کچی بچیوں کی کچی بوٹیاں جلانے کی سیاہ بلکہ سرخ خبریں سرخ سرخیاں بن کر اخباروں کی زینت بننے کے بعد ردی میں بک جاتی ہیں دو روپے کلو والی ردی میں بک جانے والی یہ خبریں مظلوم اور مقہور ماں باپ کے کلیجوں کے کس طرح ٹکڑے اڑاتی ہیں اس اذیت اور سرخ آنسوﺅں کے بارے میں کوئی کیوں سوچے گا؟ کیونکہ غیرت اور اذیت بھری اس سوچ پر بہت زور لگتا ہے اگر یہ اخلاقی زور لگا دیا جاتا تو بخدا بہت سے جرائم سے معاشرہ پاک ہوسکتا تھا بلکہ پاک ہو سکتا ہے معاشرہ انفرادی سطح پر اس جانورانہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہے۔
قارئین! ایسا لگتا ہے وطن عزیز میں ایسے جرائم پر سزائیں دینے کا رواج ختم ہو چکا ہے بلکہ داستان پارینہ بن چکا ہے سارا زور صرف تفتیش و تحقیق اور گرفتاری پر لگ جاتا ہے بعد میں سزاﺅں کے محض وقتی اعلان سے مجرموں کے حوصلے مزید بڑھ جاتے ہیں بلکہ اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو اس روئیے کی وجہ سے جانوراور جرائم کا تناسب نقطہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ظاہر ہے کسی سزا کے بغیر جرائم میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ بہرحال اس تمام تر پیش منظر بلکہ پس منظر حقائق کے حوالے سے کہنا یہ ہے کہ قانون اور حکومت اب براہ راست ان اندوہناک جرائم کے مصدقہ قاتلوں بلکہ جنسی درندوں کو فوری طور پر عبرتناک سزاﺅں کی زد و ضرب میں لے آئے پچھلے چار ماہ سے مسلسل اور اس سے قبل بھی ہونے والے اس گناﺅنے نوعیت کے جرائم تمام تر مجرموں کو جیلوں سے نکال کر پھانسی گھاٹوں کی طرف ہنکایا جائے۔ ان تمام کو سرعام سنگسار کرنے کی سزا کو عام کیا جائے جن کو ہزاروں لوگ کھڑے ہو کر نہ صرف دیکھیں بلکہ ان پر لعنت بھیجنے کے ساتھ ساتھ خود بھی جوتا ماری کریں ۔ ان کی قبریں تیار کرنے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ ان کی لاشوں کو زندہ درندوں کے پنجروں میں پھینکا جائے تاکہ درندے بھی ان درندوں کو نوچیں اور عبرت پکڑیں۔
یاد رکھیے ہمارا پاک مذہب انتہائی پرامن اور عبادات سے بھرپور زندگی گزارنے کا سبق دیتا ہے ہماری پاک آسمانی کتاب نے ہمیں جو مکمل اخلاقی اور مذہبی ضابطہ حیات عطا کر دیا ہے وہی ہماری اصل بنیاد ہے جس سے سر کو روگردانی کا تصور بھی گناہ عظیم ہے اگر ہم تمام تر مسلمان اپنے وجہ کائنات ، خلق اکمل حضور پاک کے فرمان اور قرآن کے حرف حرف پر عمل کریں تو تمام دنیا کے تمام تر اسلامی ممالک امن اور سکون کو پناہ گاہیں بن جائیں ایسی پناہ گاہیں جہاں جرم و جرائم اور قتل و گناہ کا تصور تک ممکن نہیں ہوگا۔