شہبازشریف مسلم لیگ ن کو اپنے بیانیے کا ترجمان بنا سکیں گے؟

17 اپریل 2018

نواز شریف کے موجودہ جارحانہ روئیے کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس نظر نہیں آتی کہ مسلم لیگ ن جس پر بقول چوہدری نثار علی، محمود اچکزئی فکر کا قبضہ ہے اور میرے نزدیک جس پر محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان دونوں کا غاصبانہ قبضہ و استحصال بذریعہ نواز شریف موجود ہے ، ان کی موجودگی میں مسلم لیگ ن کبھی شہباز شریف کی فکر اور بیانیے میں تبد یل ہو سکے گی۔ ایسا کرنے کے لئے شہباز شریف کو نواز شریف کے موقف اور بیانیے سے انحراف کرتے ہوئے واضح اور دو ٹوک انداز میں اس کا متبادل اور متضاد بن کر سامنے آنا پڑے گا۔لیکن چونکہ شہباز شریف میں آنکھوں کی شرم اور خاندانی وقار موجود ہے جو ماضی میں بھی انہیں نواز شریف کی جگہ خود کو قائد اور فیصلہ ساز بننے سے روکتا رہا ہے۔ لہذا کچھ بعید نہیں کہ ماضی کی طرح درپیش صورتحال میں بھی ایک مطیع و فرمانبردار بھائی کا رویہ ہی پیش کریں ۔ ایسی صورت میں لازماً نئی مسلم لیگ بن کر رہے گی۔ ماڈل وہ بھی ہو سکتا ہے جو 1985 میں جنرل ضیاءالحق نے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے اپنایا تھا۔ اگر 1985 کا ماڈل نئی مسلم لیگ کا پیش خیمہ بن گیا تھا تو متوقع جولائی سے شروع ہونے والا عہد بھی نئی مسلم لیگ اور نئی پارلیمانی اخلاقیات کی ایجاد کا موسم بن سکتا ہے۔ یاد رہے پاکستان کا علم نجوم میںجو یوم پیدائش ہے اس کے مطابق جولائی کا مہینہ ہمیشہ فوج کی نئی حکمت عملی کا ہوتا ہے ماضی میں جولائی اگر جنرل ضیاءالحق کو اقتدار دے سکتا تھا اور بھٹو سے واپس لے سکتا تھا تو متوقع جولائی میں بھی نئی حکمت عملی سامنے لائی جا سکتی ہے۔ ”بھارت سے مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔ ملک میں آئین و قانون کی حمایت کی جائے گی۔ رد الفساد کو جاری رکھا جائے گا۔ تحریک تحفظ پختون کی آڑ میں بین الاقوامی انارکی و انتشار و بغاوت سازش کا راستہ روکا جائے گا“۔ یہ موقف آرمی چیف کے حوالے سے ہمارے سامنے ہے۔ چیف جسٹس کی بھرپور درست فعالیت اس ”خلائ“ کو ”پُر “ کر رہی ہے جو حکمرانوں نے اپنی سستی و کاہلی کے ذریعے قدم قدم پر پیدا کیا ہوا تھا۔ تا حیات وزیراعظم کے زعم باطل میں مبتلا مقدر کا سکندر عدالتی طور پر اب تاحیات نا اہل برائے اقتدار و صدارت مسلم لیگ ہے۔ جناب مجید نظامی مرحوم نے جدہ جا کر نواز شریف کے سامنے شہبازشریف کو مسلم لیگ و سیاست دے دینے پر اصرار کیا تھا لیکن وہ نہ مانے موجودہ صورتحال اور متوقع سیاسی منظر نامہ میاں شہباز شریف سے ایک مدبر ، حقیقت پسنداور مستقبل بین صدر مسلم لیگ کاکردار ادا کرنے کا متقاضی ہے تاکہ ”نئی“ مسلم لیگ کی جو ضرورت دکھائی دیتی ہے وہ از خود ختم ہو جائے؟ اورشائد کچھ ”بچت “ ہو جائے۔
10 اپریل کو اسلام آباد میں چودھری شجاعت حسین کی کتاب ”سچ یہ ہے“ کے حوالہ سے تقریب کا انعقاد ہوا۔ چودھری شجاعت حسین نے ماضی میں وقوع پذیر بہت سے واقعات کے حوالے سے انکشافات کئے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین ٹھنڈے دماغ، وسیع الظرف، مٹی پاﺅ اور صلح کراﺅ فارمولے کے موجد ہیں کھل کر چودھری شجاعت حسین جنرل ضیاءالحق کے عہد میں اقتدار میں آئے۔ ان کا چودھری ظہور الہی کا وارث ہونا بھی خاندانی اثر و رسوخ کا قصہ ہے مگر جو عروج جنرل پرویز مشرف عہد میں چودھری برادران کو میسر آیا وہ سنہری عہد ہے۔ چودھری شجاعت حسین برج دلو کی مخلص، مدبر، صلح جو قابل قبول شخصیت ہیں جبکہ ان کے کزن چودھری پرویز الہی سکار پیو (عقرب) شخصیت ہیں جبکہ جنرل پرویز مشرف برج اسد شخصیت تھے جنرل پرویز مشرف عہد نے چودھری برادران کی جھولی میں نئی مسلم لیگ کی تخلیق ڈال دی۔ میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزیراعظم بنایا۔
2002ءکے انتخابات سے پہلے اسٹیبلشمنٹ نے بھرپور کوشش کی تھی کہ ”نیا سیاسی اتحاد“ (اینٹی نواز شریف لوگوں کا) قائم ہو جائے اور سردار فاروق لغاری کو وزیراعظم بنوانے کا منصوبہ انتخابات سے پہلے ہی تیار ہو جائے۔ ذاتی معلومات کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں کہ حامد ناصر چٹھہ نے اس منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ جونیجو لیگ کو برقرار رکھے ہوئے بھی تھے انتخابات کے بعد البتہ پارلیمنٹ کے اندر متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے لئے چودھری شجاعت حسین، چٹھہ، پیر پگاڑہ، اعجاز الحق، میاں اظہر نے بھرپور کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کا عینی شاہد ہوں جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے بہت کوشش کی تھی کہ سردار فاروق لغاری ایم این اے کے بعد وزیراعظم بن جائیں مگر مذکورہ بالا لیگی قائدین نے سردار لغاری کے وزیراعظم بننے میں رکاوٹ کا بنیادی کردارادا کیا تھا۔ یوں قومی اسمبلی میں ”متحدہ مسلم لیگ“ کا احیاءہو گیا جس کے وزیراعظم جمالی تھے۔ مگر جمالی و چودھری اختلافات نے جمالی رخصت کو ممکن بنا دیا اور ہر طرف چودھری چھا گئے تھے۔ اب پھر چودھری شجاعت حسین مرحوم پیر پگاڑہ کے وارث موجودہ پیر پگاڑہ سے متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے حوالے سے کافی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ ماض بعید میں نواز شریف ے مدمقابل بھی یہ بزرگ متحدہ لیگ بنانے میں مصروف ہی رہتے تھے مگر عملاً عوام میں ان کی پذیرائی نہیں ہوئی تھی کہ عوام ٹھوس ہدف لئے ہوئے پرعزم قیادت کی زیادہ حمایت کیا کرتے ہیں چوں چوں کرتی مختلف الخیال اور مختلف پروگرام و مقاصد رکھتے اتحاد کو عموماً ووٹ کم ملا کرتے ہیں۔متحدہ مسلم لیگ پرانے بزرگوں کی زیر قیادت متوقع منظر نامے میں کامیاب ہو گی؟ امید ذرا کم ہے۔
علم نجوم میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کو حیرت ہو گی کہ برج جدی (کیپریکان) شخصیات ہمارے موجودہ قومی منظر نامے میں فیصلہ کن کردار ہیں۔ نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، صدر پاکستان ممنون حسین، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار، یہ سب برج جدی کی شخصیات ہیں۔ پرعزم، عملیت پسند، آئیڈیل ازم سے دور، زمینی حقائق کی بنیاد پر گامزن، ماضی میں صدر جنرل مشرف نے پیر پگاڑہ مرحوم، چودھری حامد ناصر چٹھہ، چودھری شجاعت حسین کو بلوا کر پیر پگاڑہ اور چٹھہ کا بازو مروڑ کر اپنی اپنی مسلم لیگیں ختم کرنے پر مجبور کیا اور چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ق لیگ کو سرکاری لیگ بنایا تھا۔ لیگی اتحاد انتخابات سے پہلے عموماً نہیں ہوا کرتا مزید اقتدار میں آنے کے لئے البتہ اسمبلیوں میں آ کر ممکن ہو جایا کرتا ہے پھر بھی مگر ایک ہی پارٹی میں ہو کر اخلاص سے اتحاد کا راستہ عملاً نہیں اپنایا جاتا۔