ڈاکٹراے کیوخان بے قصوراور ”سچ تو یہ ہے“

17 اپریل 2018

اگلے روز لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں ملک کے مایہ ناز سیاستدان اورسابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی آپ بیتی پر مشتمل کتاب ”سچ تو یہ ہے“ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ جس میں معروف سیاستدانوں، دانشوروں اور ٹیلی ویژن کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو تھے جبکہ تقریب سے ہر شعبہ زندگی سے ممتاز شخصیات نے اظہار خیال کیا۔ نظامت کے فرائض معروف اسکالر اوریا مقبول جان نے سرانجام دیئے۔ چودھری شجاعت حسین جو ایک طویل عرصہ سے پاکستان کی عملی سیاست میں موثر کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے مشاہدات اور اہم واقعات کا اس آپ بیتی میں ذکر کیا ہے۔ جو قابل مطالعہ ہیں۔ 328صفحات اور تمہیدکے علاوہ 20ابواب اور متعدد نادر تصاویر سے مزین اپنی اس آپ بیتی میںچودھری شجاعت حسین نے اپنے بزرگوں سے لیکر آج تک کے سیاسی حالات اور واقعات کا انکشاف کرکے بہت سی اہم باتوں سے پردہ اٹھایا ہے جو قابل قدر ہے۔ چودھری شجاعت حسین ایک ایسے سیاستدان ہیں جنہوں نے اوائل عمری میں سیاست اپنے والد گرامی چودھری ظہور الٰہی سے سیکھی اور اپنے قابلیت کے باعث وہ مختلف وزارتوں کا سفر کرتے ہوئے وزارت اعظمیٰ کے عہدہ جلیلہ تک پہنچے۔ اس حوالے سے ان کی آپ بیتی خاصی اہمیت کی حامل ہے اور انہوں نے ماضی قریب سے لیکر اب تک کے کئی سیاسی اہمیت کے حامل موضوعات اور واقعات کا احاطہ کیا ہے۔ جس کے باعث یہ آپ بیتی سیاستدانوں کے علاوہ طلبہ سیاست کو بھی پڑھنی چاہیے جو ان کے لئے پاکستان کے سیاسی حالات کو سمجھنے اور ان سے پنپنے کا ادراک حاصل ہوگا۔ اس آپ بیتی کا حاصل مطالعہ وہ حصہ ہے جو قومی اور بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے اور کتاب کے صفحہ نمبر 216پر ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعتراف بیان کا قضیہ“ کے عنوان سے موجود ہے۔ اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب پرجوہری توانائی بیچنے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد ہوا تو ایک روز اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے مجھے اور ایس ایم ظفر کو بلا کر کہا کہ آپ دونوں حضرات ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ اس معاملے پر قوم سے معافی مانگیں۔ کچھ توقف کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ چودھری صاحب مناسب یہ ہے کہ آپ اکیلے ہی جائیں اور ان سے بات کریں۔ میں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب سے ان کے گھر پر ملاقات کی ا ور ان کو پرویز مشرف کا پیغام پہنچایا، وہ کہنے لگے مجھ پر یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے کوئی چیز فروخت نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی سے کوئی رقم لی ہے۔ یہ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں
بہرحال ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک اور قوم کے مفاد میں ٹیلی ویژن پر آ کر سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ اس پر میں نے ایک بیان جاری کیاجس کا متن یہ ہے کہ ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے اور قومی مفاد میں ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ انہوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا ہے۔ میں نے گزشتہ روز ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ملاقات میں ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی۔ انہوں نے ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر ملک اور قوم کے لئے پہلے سے بھی بڑھ کر کام کیا ہے۔ جس میں کنفیوژن کا خاتمہ ہوا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کمزور سمجھ کر بیرونی دنیا ہم پر پریشر ڈال رہی ہے“۔ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت ڈاکٹر صاحب نے معاملے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر پاکستان کو انتہائی مشکل صورتحال سے نکالا ہے اور یہ کوئی معمولی قربانی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اس ایثار ا ور قربانی سے میرے دل میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی“
چودھری صاحب کایہ اقتباس اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ رنگیلے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے عالم اسلام کو عموماً اور پاکستان کو خصوصاً ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنانے والے عظیم قومی ہیرو اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر بے بنیاد اور سراسر جھوٹ پر مبنی الزامات محض اس لئے لگائے تاکہ وہ اپنے آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرکے اپنے اقتدار کو طویل کر سکے۔ علاوہ ازیں پرویز مشرف کو ڈالروں کی چمک نے بھی خیرہ کر دیا تھا۔ اس بات کی تصدیق حال ہی میں مشہور دانشور جبار مرزا کی کتاب ”نشان امتیاز“ میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جو حقائق پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جو بلاشبہ ایک محب پاکستانی ہونے کے علاوہ راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہیں، انہوں نے پاکستان کو ایٹمی اور میزائل قوت دے کر ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ جس پر عالم اسلام کو بھی فخر ہے۔ اب جبکہ ملک کے ایک ممتاز سیاستدان چودھری شجاعت نے جو ایک طویل عرصہ تک مشرف کے ساتھ رہے ہیں اور اس حوالے سے وہ حقائق سے بخوبی آشنا ہیں انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے قصور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک اور قربانی دے کر ملک و قوم کی بے مثال خدمت کی۔ ہم چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے درخواست گزار ہیں کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر عائد بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی رنگیلے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے مبینہ الزامات کے حوالے سے ازخود نوٹس لیں اور اس قضے اور مسئلے کا مستقل حل قوم کو دے کر احسان فرمائیں۔