نارووال سیکشن پر ٹرینوں کی بندش

17 اپریل 2018

مکرمی! آپ کے مﺅقر روزنامے کی وساطت سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وفاقی وزیر ریلوے نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کوئی ٹرین بند نہیں کی، خصوصاً برانچ لائنوں پر کہ ان ٹرینوں پر غریب مسافر سوار ہوتا ہے۔ ان کا دعویٰ درست نہیں۔ لاہور نارووال چک امرو سیکشن پر 217UP ، 2018Down سمیت متعدد ٹرینیں سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور موجودہ حکومت اور ان کے دو وزراء وعدوں کے باوجود برانچ لائنوں پر ٹرینیں بحال نہیں کی گئیں۔ جس سے نارووال سیکشن پر روزانہ ہزاروں مسافر ٹرین کے ذریعے سفر سے محروم ہو گئے ہیں۔ ٹرینیں بند کر کے روڈ ٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے نارووال سیکشن پر جو جو ٹرینیں چل رہی ہیں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا جبکہ روڈز پر چلنے والی ٹرانسپورٹ جان لیوا بن چکی ہے کہاں نارووال، سیالکوٹ تک روزانہ 9 ٹرینیں اور کہاں 3 لہٰذا وزیر ریلوے کا یہ مﺅقف غلط ہے کہ برانچ لائنوں پر ٹرینیں بند نہیں کی گئیں۔ عوامی مفاد عامہ میں اپیل ہے کہ بند کی گئیں ٹرینیں بحال کی جائیں یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ (چودھری فرحان شوکت ہنجرا)