قائد اعظم روشن خیال رہنما تھے، سراج الدین عزیز

17 اپریل 2018

کراچی (نیوز رپورٹر) معروف دانشور سراج الدین عزیز نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے تھے انہیں ویسا ہی پیش کیا جائے، وہ دقیانوسیت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ بطور مہمان مقرر جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ’’قائد اعظم محمد علی جناح کا سیاسی بیانیہ اور موجودہ سیاسی صورتحال‘‘ کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر قائد کے اوصاف ’’مقصد سے سچی لگن‘‘ ، بے داغ اور دیانتدارانہ کردار‘‘ اور ’’احترام قانون‘‘ کو ہی صرف اجاگر کیا جاتا تو پاکستانی سیاست پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا اور قانون شکنی کا کبھی سوچا بھی نہیں! ۔ جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ایسا تھا کہ ان کے بدترین مخالف بھی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اقبال و جناح کی خط و کتابت سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال کے دل میں ہندی مسلمانوں کی بہبود کے لیے زبردست تڑپ تھی اس لیے انہوں نے علیحدہ ریاست پاکستان کا تصور دیا ۔میجر جنرل (ر) سکندر حیات نے کہا کہ قائد اعظم پاکستان کو اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست دیکھنا چاہتے تھے ۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ قائد اعظم کا فرمان ہے کہ ملک کی اقلیتیں بھی پاکستانی ہیں، ان کے حقوق اور جان و مال کی حفاظت مملکت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے قائد اعظم کا وژن ، آج کے پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ملک میں روشن خیالی، دیانت داری اور فرض شناسی کا فروغ چاہتے تھے۔بریگیڈیر (ر) ریاض الحق نے کہا کہ قائد اعظم تو ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ اکثریت مسلم اقلیت کے حقوق دینا ہی نہیں چاہتی تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور حاصل بھی کیا۔ انجینئر انوار الحق صدیقی ‘ ظفر اقبال‘ کرنل(ر) مختار احمد بٹ ‘ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں شوریٰ کے رکن نصرت نصراللہ کی اہلیہ کی رحلت پر اظہار افسوس اور دعائے مغفرت کی گئی۔

روشن روشن چہروں والے

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ...