بجلی نہیں تو بل بھی نہیں ، صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ‘ پاسبان

17 اپریل 2018

کراچی(نیوز رپورٹر)پاسبان کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک قاتل بن چکی ہے ،حکمران اور پولیس قاتل کی سرپرستی کرکے اس کے ظلم و ستم کو مزید تقویت دے رہے ہیں اور صارفین کے حقوق کی توہین اور تذلیل کی جارہی ہے ۔ کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ اب صارفین اورتاجروں ،طالبعلموں ،مریضوں ،خواتین اور بزرگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوچکی ہے ۔حکمران اے سی میں اور رعایا شدید گرمی اور لو کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی اذیت ناک زندگی گزاررہے ہیں ۔ حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے ۔ کے ای ایس سی کی فروخت اور کے الیکٹرک سے معاہدہ میں صارفین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ ایک طرف صارفین کو بجلی کے ایوریج اور ایسڈ بلز ارسال کرکے لوٹا جارہا ہے تودوسری جانب صارفین کو بجلی مہنگی دی جارہی ہے اور بل ادائیگی کرنے والوں کو بھی بجلی نہیں دی جارہی تو پیسے کس بات کے لئے جارہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ اتنے عرصے ٹوپی ڈرامے کرتے آرہے ہیں اگر وزیر اعلیٰ سندھ ،سندھ کے عوام سے مخلص ہوتے تو آج سندھ کا اپنا بجلی کر بناکر کے الیکٹرک کی ظلم وذیادتیوں سے عوام کو نجات دلا چکے ہوتے ۔ کراچی میں سمندر ہے ،قدرتی ہوا اور کوئلہ موجود ہے کیا سندھ کا اپنا بجلی گھر نہیں بن سکتا تھا ۔ اب بجلی نہیں تو بل بھی نہیں لیا جائے ۔جب بجلی ملے گی تب صارفین کو بل بھیجے جائیں۔ وہ شہر کراچی میںبجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف پاسبان کراچی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر قاتل قاتل کے الیکٹرک قاتل کے نعرے درج تھے ۔ عبدالحاکم قائد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کنڈا بل بھیج کر صارفین کو چور کہنے والے کے الیکٹرک کے مالکان سب سے بڑے ڈاکو ہیں ۔ کے الیکٹرک کے ایوریج اورا یسڈ بلوں نے شہریوں کی معاشی حالت ابتر کردی ،صارفین اپنی جمع پونچی کے الیکٹرک کے ایوریج اور ایسڈ بلوں کے نذر کردی مگر کے الیکٹرک کو لگام دینے کے بجائے خود نیپرا بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے کے الیکٹرک کو لوٹ ماراور قتل عام کے مواقع فراہم کرتی آرہی ہے ۔،نیب کو اب کے الیکٹرک کے حساب کتاب کی جانچ پڑتال اور صارفین سے لوٹی دولت واپس دلوانی چاہئے۔