صحافیوں کے روبرو شہبازشریف کے انکشافات

17 اپریل 2018

پاکستان کی سیاست جس رخ پر جا رہی ہے اس سے حساس پاکستانیوں کے دل دھڑکنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ پر اگرچہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں سمیت فوجی ترجمان نے مذمتی بیان جاری کئے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسا کرتے ہوئے احتیاط کا دامن تھامے رکھا جاتا۔ جن لوگوں نے ملبہ مسلم لیگ (ن) یا اس سے وابستہ رہنماﺅں پر ڈالا ہے وہ جمہوریت کے والی بھی ہیں سو تحقیقات سے پہلے اس طرح کی بدگمانی پھیلانا یقیناً پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہمیں 13 اپریل تا 15 اپریل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے سہ ماہی اجلاس لاہور کے موقع پر جہاں ملک بھر سے آنے والے نمایاں صحافیوں کے خیالات سننے کا موقع ملا وہاں ان کے اعزاز میں دئیے گئے صبحانوں (ناشتوں) ظہرانوں اور عشائیہ تقریبات میں ملک کے ممتاز سیاسی رہنماﺅں کے
خیالات سننے کا بھی موقع ملا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی طرف سے دئیے گئے ناشتے کے موقع پر پی ایف یو جے کے صدر حاجی نواز رضا اور خادم اعلیٰ شہبازشریف نے سیر حاصل گفتگو کی جبکہ سوال و جواب کی نشست بھی زور دار رہی۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے حیات سابق صدور میں سب سے سینئر سید سعود ساحر بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کے ساتھ ان کا پرانا تعلق واسطہ ہے۔ شریف خاندان کے جلا وطنی کے دور میں بھی شاہ صاحب کی نوازشریف، شہبازشریف سے جدہ میں ملاقاتیں رہیں تاہم موجودہ حکومت میں طویل وقفے کے بعد سعود ساحر اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی۔ میاں شہبازشریف نے ان سے ان کی عمر دریافت کی شاہ صاحب گڑ بڑا گئے اور جواب دیا۔ ”پلس سیونٹی“ یوں لگا کہ میاں صاحب کو دھچکا لگا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ہم مسلم لیگ (ن) کے صدر کو ماضی قریب میں بتا چکے تھے کہ جب راقم الحروف طالب علم تھا توسید سعود ساحر نوائے وقت راولپنڈی کے رپورٹر تھے۔ میاں صاحب سے عرض ہے کہ 79 سال تک پلس سیونٹی ہی ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے کچھ غلط نہیں کہا۔ اس مجلس میں صدر حاجی نواز رضا، سیکرٹری جنرل سہیل افضل، گروپ ایڈیٹر سٹی 42 ، نوید چودھری کراچی پریس کلب کے سیکرٹری مقصود یوسفی، نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر دلاور چودھری، نئی بات کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر منیر بھٹی ، پی ایف یو جے کے نائب صدر شکیل الرحمن حُر، راولپنڈی، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر مظہر اقبال سمیت دیگر نے ملک کی سیاسی صورتحال اور قومی معاملات کے حوالے سے سوال و جواب کی نشست کو جاندار بنا دیا۔ اس موقع پر میاں شہبازشریف نے جن خیالات کا اظہار کیا ان میں کچھ تو اخبارات میں خبر کے طور پر موجود تھے لیکن انہوں نے پاکستان کے سیاسی نظام کے کل پرزوں کے حوالے سے جو چشم کشا حقائق بیان کئے ان میں سے محض ایک تحریر کرنے پر اکتفا کروں گا اور پھر ہم پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کے رہنماﺅں سمیت دیگر احباب کی طرف بڑھیں گے۔ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کابینہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے اُس اجلاس کا حال سنایا جس میں انہوں نے وفاق اور پنجاب حکومت سے مل کر 3600 سے 5 ہزار میگاواٹ کے منصوبے لگانے کے فیصلے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کے باعث چین کے صدر کا دورہ موخر ہوگیا تھا جو کہ اپریل 2015ءمیں ہوا اور پاکستان چین نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ صدر چین کے جانے کے بعد کابینہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کا غالباً 30 اپریل یا یکم مئی کو اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ میں نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ ہمیں 3600 سے 5 ہزار میگاواٹ کے منصوبے اپنے وسائل سے لگانے چاہئیں کیونکہ There is Many A Slip Between The Cup and Lips خدانخواستہ دوبارہ دھرنے شروع ہوگئے یا کچھ اور ہوگیا، خدانخواستہ جنگ چھڑ جاتی ہے یا خدانخواستہ چین سے بروقت مشینری نہیں آتی تو کیا ہم ڈنڈے بجائیں گے۔ کابینہ کمیٹی برائے پانی و بجلی میں اس پر میرے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ میاں نوازشریف خاموشی سے سن رہے تھے اور باقی سب یک زبان تھے۔ میرے خلاف جو موقف لیا گیا اس پر کتاب لکھوں گا تو تفصیل بیان کروں گا۔ کہا گیا کہ یہ نیلم جہلم پاور پلانٹ انشاءاللہ 2016ءمیں مکمل ہورہا ہے، منگلا فور آرہا ہے اس سے 1200 میگاواٹ بجلی آئے گی، یہ نیوکلیئر پراجیکٹ بجلی فراہم کرے گا، یہ فلاں منصوبہ بجلی دے گا، نندی پور دے گا، میرے خلاف افسر شاہی اور سیاستدان یک زبان تھے، قصہ کوتاہ جب میں نے دیکھا کہ میں بے بس ہوگیا ہوں تو میں نے میاں نوازشریف کو مخاطب کیا اور کہا وزیراعظم صاحب قوم سے وعدہ آپ کا ہے کہ 5 سال میں اندھیرے چھٹ جائیں گے، لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی الیکشن 2018ءمیں لوگوں نے آپ کا گریبان پکڑنا ہے یا میرا گریبان پکڑیں گے ان لوگوں (اجلاس کے شرکائ) نے فصلی بٹیروں کی طرح کہیں اور پناہ لینی ہے ان میں سے کسی نے نظر بھی نہیں آنا۔ پھر میں نے نرم انداز اپنایا اور کہا کہ یہاں جو سیاستدان بیٹھے ہیں ہمارے بھائی ہیں انہیں بھی عوام کو جواب دینا پڑے گا لہٰذا یہ بڑا فیصلہ ہوگیا۔ طے پایا کہ ایک میں پنجاب میں لگاﺅں گا 2 پلانٹ وفاقی حکومت لگائے گی ۔ آج تینوں پلانٹ لگ چکے ہیں۔ 3600 میگاواٹ کے یہ منصوبے نہ لگتے، سی پیک نہ آتا تو ہم کہاں کھڑے ہوتے؟۔ اس کا فیصلہ خود کرلیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک اور چوتھا پلانٹ لگانے کی تجویز پیش کی جسے نوازشریف نے منظو رکرلیا لیکن وفاقی وزارت پانی و بجلی نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ بہرحال ہم نے پنجاب کے وسائل سے 1200 میگاواٹ کا منصوبہ لگا دیا ہے اس سال کے آخر تک اس کی ٹربائن چل جائے گی یا اگلے سال شروع میں۔ انہوں نے سی پیک منصوبے سے بجلی کے پنجاب اور سندھ کے پاور پلانٹس کی تفصیل بھی بتائی۔ اُن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں لگنے والے ان چاروں پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی پاکستان کو جارہی ہے۔
وفاق کو جماعت اسلامی پاکستان کے منصورہ ہیڈکوارٹر پر ظہرانے میں جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم، مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن سمیت جماعت اسلامی کے متعدد و دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ مسلم لیگ (ن) لاہور کے عشائیے میں وفاقی وزیر تجارت و صدر مسلم لیگ ن لاہور محمد پرویز ملک، لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید ، سابق رکن اسمبلی رانا مبشر اقبال ، احسن شرافت ، چیئرمین تاجر ونگ مسلم لیگ (ن) بابر محمود سمیت کارکنوں کی کھیپ موجود تھی جنہوں نے میزبانی کے فرائض سر انجام دئیے۔ نظامت کے فرائض مسلم لیگی کارکن چوہدری علی عدنان نے سرانجام دئیے۔ پی ٹی آئی پنجاب ( وسطی ) کے صدر عبدالعلیم خان نے چیئرمین سیکرٹریٹ میں ظہرانے کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد صدیق ، ندیم بھنڈر بھی موجود تھے ۔ نظامت کے فرائض پی ٹی آئی کے میڈیا کوآرڈی نیٹر جمشید بٹ نے سرانجام دئیے ۔ یوں ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے آنے والے صحافیوں کو پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے نہ صرف سیکرٹریٹ دیکھنے کا موقع ملا بلکہ انہوں نے مسلم لیگ ن لاہور کا مرکزی دفتر گلبرگ بھی دیکھا جو مسلم لیگ ن لاہور نے الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں سے وصول شدہ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی ، لوکل باڈیز ، الیکشن فیس سے خریدا ہے۔ پی ایف یو جے (دستور) کا افتتاحی اجلاس لاہور پریس کلب کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں ہوا جس کے مہمان خصوصی مسلم لیگی رہنما وصوبائی وزیر سید زعیم حسین قادری تھے۔ میزبان یونین کے صدر عبدالرحمن بھٹہ ، پی ایف یو جے کے سابق صدر سعید آسی ، سابق چیف الیکشن کمشنر تاثیر مصطفےٰ ‘پی ایف یو جے کے فنانس سیکرٹری حامد ریاض ڈوگر ، پی یو جے کے جنرل سیکرٹری احسان اللہ بھٹی ، سینئر نائب صدر شہزادہ خالد ، فنانس سیکرٹری عاصم امین و دیگر عہدیداران پی یو جے و ارکان مجلس عاملہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جبکہ عشائیے کا اہتمام ڈپٹی میئر لاہور رانا اعجاز احمد حفیظ نے مقامی شادی ہال میں کیا۔ اگرچہ اگلے دو دن میں مہمانوں کی تواضع میزبانوں نے کھانے کی شاندار ڈشوں سے کی لیکن پہلے کھانے کا تاثر مہمانوں پر آخر تک رہا اور وہ اسے نمبر ون قرار دیتے رہے ۔