قبائلی علاقوں تک آزادی کا سفر

17 اپریل 2018

آزاد قبائلی علاقوں میں انگریز سامراج کی بدترین غلامی کا شکار ہمارے قبائلی بہن بھائی اب آزاد ہورہے ہیں۔ آزادی کے 70 بعد انہیں اب انگریز کی غلامی سے چھٹکارا مل رہا ہے۔ پاکستان کے رضاکار محافظ سپاہیوں کا مقدر کھلنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ دستور پاکستان نے 1947ءمیں آزاد ہونے والوں کو حقوق کی صورت میں آزادی کا جو حق دیاتھا، ہمارے یہ بھائی، بہن اور بچے بھی اس کے حقدار ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جیسی اعلیٰ عدالتوں میں قبائلی بھی اپنی درخواستیں لے جاسکیں گے اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی کوئی ’ثاقب نثار‘ ازخود نوٹس لے کر مجروح دلوں کو ’قرار‘ دینے کا باعث بنے گا۔ گالی اور نفرت کی جگہ شاید اب دعائیں لیں گی، غصے سے سرخ آنکھوں کے دریچے میں اب امید اور یقین کے نئے سورج طلوع ہوں گے اور جذبات اور طاقت کی جگہ حقوق کی بات کا رواج عام ہوگا۔
برطانوی راج ہو، روس کی مداخلت کا راستہ روکنا مقصود ہو یا پھر امریکیوں نے جو غدر مچایا، اس کے اثرات ہوں، ہمارے گھر کے ان مکینوں نے صبر، استقامت اور جوانمردی سے حالات کے ستم سہے ہیں۔ فاٹا ایسا ہی نام ہے جیسے کسی کا نام عبدالرشید ہو اور اسے ’شیدا‘ کہا جائے۔ ان غیورپاکستانیوں کے اس خطہ کے لئے خوبصورت اور باعزت نام ہونا چاہئے جس سے آزادی اور اس کے تحت ملنے والے حقوق واعتماد کی خوشبوآتی ہو۔ انہیں معلوم ہو کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔ ماضی اور حال کے برتاو¿ میں فرق سے ہی انہیں معلوم ہوگا کہ وہ آزاد ہوگئے ہیں اور اپنے وطن میں ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ پختونوں کے غم میں “دبلے ہو کر”توند یں بڑھانے والے حضرت مولانا اور کابل کی دھن پر ناچنے والے اچکزئی پختون قبائیلیوں کو آزادی ملنے پر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ ’حضرت ‘ مولانا کی 1973ءکے آئین کے ’تناظر‘ میں پیدا کردہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود یہ مرحلہ آگے بڑھا ہے۔ اب قومی اسمبلی کے بعد سینٹ نے بھی سپریم کورٹ اور پشاورہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل متفقہ طورپر منظور کرلیا۔ جمعہ کو یہ مبارک کام انجام پایا۔ بلوچستان سے نومنتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے حصے میں یہ اعزازآیا کہ وہ فاٹا بل کی منظوری دینے والے ایوان کی صدارت کریں۔ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں آئین کی حکمرانی کے سفر کا آغاز ہوگیا۔
یہ واقعہ اسی دن ہوا جس دن پارلیمنٹ سے ملحقہ سپریم کورٹ میں 62ون ایف کی حدود اور مدت کے تعین کے مقدمے کا فیصلہ سنایا جارہا تھا۔ عدالت اور پارلیمنٹ دونوں سے ایک دن میں دو اہم کام انجام پا ئے۔ دونوں کے اثرات ملک گیر سطح پر ہو رہے ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ اس وقت پارلیمان کا حقیقی عوامی نمائندہ بن کر فعال ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ داخلی اور خارجی لاحق خطرات میں اس عوامی نمائندگی کے امین ادارے کا شفاف، ٹھوس اور حقیقت پسندانہ انداز میں عوامی مسائل کے حل کے لئے کردار لازم ہے۔ اداروں نے اپنی کارکردگی سے ہی قوم کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم خطرات کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان کے مقابلے کے لئے زندہ وبیدار بھی ہیں۔ ورنہ محض بیان بازی اور دعووں سے پہلے کچھ حاصل ہوا اور نہ آئندہ ممکن ہے۔
یہ اس لحاظ سے بھی بہت مناسب کام ہوا ہے کہ ابھی چند روز قبل ہی بری فوج کے سربراہ نے قبائلی علاقوں میں افواج پاکستان کی کاوشوں اور شہداءکی قربانیوںکا ذکر کیا اور دُکھی لہجے میں ایک تحریک کا ذکر کیا جس کا چرچا مقامی میڈیا ہی نہیں جسے اکثر وبیشتر لتاڑا جاتا ہے بلکہ مغربی میڈیا میں بھی ایک خاص گروہ خاص اہتمام سے کررہاہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پہلے گل مکئی‘ کاشت کی۔ اب قبائل کے نوجوانوں کے مجروح جذبات اور محرومیوں کو ایک خاص سمت دینے کے لئے زخم کریدنے کا ہنر آزمایا جارہا ہے۔
ایک بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنے بچوں کی بات کو سلیقے سے سننے کا بھی کوئی اہتمام کرنا چاہئے تاکہ جوانی جذبات میں وہ دوسرا پہلو بھی جان سکیں لیکن گرمی جذبات کو محض گستاخی یا اس سے بھی کوئی سنگین مطلب دینا بھی مناسب رویہ نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی صورت میں اب وہ مناسب فورم ہاتھ آگیا ہے جس کی ایسے حالات میں ضرورت تھی۔ برس ہا برس سے دباو¿ کا شکار آبادیوں کو آزادی کی سانس ملنے کے بعد شہری ترکیب میں آنے میں وقت لگتا ہے۔ یہ ’آن‘ یا ’آف‘ والا معاملہ نہیں ہوتا۔ عمرانیات کی پرتیں اتنی آسان نہیں ہوتیں۔باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم کے علاوہ شمالی اور جنوبی وزیرستان مل کر قبائلی علاقوں کا تعارف پاتے ہیں۔ پچاس لاکھ سے زائد آبادی کو بنیادی حق دینا اصل توجہ چاہتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار کا حق، ا±ن پر بادشاہی کرتے پولیٹیکل ایجنٹس سے نجات کے بعد ان کے معاشی حقوق کا تحفظ کرنا، ان کی زمینوں کا تحفظ اور ان کے لئے شہری زندگی یا اعلی معیار زندگی کی فراہمی کے لئے اقدامات کرنا درست سمت میں صحیح قدم ہوگا۔ قبائلی علاقوں میں ماڈل شہر یا جدید شہر بسانے کی شاندار تجویز بھی آئی ہے۔ اس میں سرمایہ کاری کی جائے۔ وہ جدید تعلیمی ادارے اور مختلف کاروباری منصوبہ جات بنائے جائیں۔ سی پیک کی صورت میں ایک بہت اہم موقع ہمارے پاس قدرت نے فراہم کردیا ہے۔ اسے ہم اپنے قبائلی علاقوں اور ان میں آباد پاکستانیوں کی بہتری کے لئے بروئے کار لاسکتے ہیں۔
سینٹ میں جب یہ نیک کام ہورہا تھا تو پختونوں کے غم میں رونے والے اچکزئی کی پختونخوامیپ اور حضرت مولانا کی جے یوآئی -ف نے ایوان سے واک آو¿ٹ کیا ۔ واہ، پارلیمان کے باہر جو لوگ پارلیمان کی عزت، ووٹ کی حرمت کے لیکچر دیتے نہیں تھکتے۔ وہ مظلوم قبائلیوں کے حقو ق کے لئے رائے شماری میں حصہ نہ لے کر بہت سے جمہوری پیغام دے رہے تھے؟ یہ ہے ان کی جمہوریت پسندی’ اپنے ’پاو¿ بھرگوشت‘ کیلئے دوسرے کا ’پورابکرا‘ ذبح کرادیتے ہیں۔ مزہ تو یہ ہے کہ سوال پوچھنے پر دودھ کی طرح دھلا ثابت کرتے ہوئے اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے۔ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کب کا ہوجاتا لیکن ڈبل بیرل بیلیوں نے ’مجھے کیوں نکالا‘ کو کچھ نفسیاتی یا ذہنی قید میں ایسے جکڑے رکھا کہ وہ سرتاج عزیز کی اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہونے اور کوئی عملی رکاوٹ باقی نہ رہنے کے باوجود ’اڑے‘ رہے۔ حضرت مولانا اکثر ’اکثریت‘ کا ذکر کرتے ہیں اور اقلیت کی رائے کے مسلط ہونے پر پیچ وتاب کھاتے رہتے ہیں لیکن یہی اصول وہ خود پر لاگو کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے نزدیک ان کی اپنی ’انا‘ دلائل کے حصار میں کچھ یوں قید ہے کہ ان کے لئے دوسروں کی رائے اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی اقلیت قرار پاتی ہے۔ وہ شاید فاٹا میں شدت جذبات کی گرمی کو مزید فارن ہائیٹ دینے کے کسی خیال خام میں غلطاں ہیں یا انہیں احساس نہیں کہ اس نوعیت کی موشگافیوں سے نکلنے والی تاخیر قوموں کی زندگی کے لئے کبھی کبھی کتنی ہلاکت خیز ہوسکتی ہے۔ پنجاب کو اکثرطعنہ دینے والے تاریخ کے اس مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ یہ تاخیر پنجاب کی وجہ سے ہوئی۔ یہ تاخیر ہوئی تو اس میں تمام کے تمام پشتون ذمہ دار قرار پائیں گے۔
1996ءمیں بالغ رائے دہی کا جو سلسلہ قبائلی علاقوں میں لانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اب ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی قومی جذبے کے تحت اپنا کردار ادا کرنا شروع کریں لیکن احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔ ووٹ لینے اور زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ لینے کی خاطر ایسے رویوں، نعروں اور بیانیوں سے گریز مناسب رہے گا جس سے جلتی پر تیل نہ پڑے۔ یہ ایک موقع ہے جس سے ہم ایک نہایت طویل عرصے سے پستے چلے آنے والے خطہ کو دوبارہ سیاسی ، معاشی اور آئینی مرکزی دھارے میں لانے کی نیکی کمائیں۔ انگریز کا ظالمانہ اور غلامانہ ایف سی آر کا خاتمہ، قومی مالیاتی کمشن (این۔ایف۔سی) ایوارڈ میں قبائل کو حصہ دینے کے علاوہ 2018ءکے انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے سے قبائلی علاقے کے عوام کو ایک نئی امید اور نیا اعتماد مل سکتا ہے۔ سابق صدر زرداری کا یہ مطالبہ اس مو¿قف کی وضاحت ہے کہ وہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قیام امن کے حقیقی ثمرات فاٹا کو قومی دھارے میں لاکر حاصل کریں گے۔