منگل ‘ 1439 ھ ‘ 17 اپریل 2018ء

17 اپریل 2018

مرسوں مرسوں کم نہ کر سوں اب نہیں چلے گا: شہباز شریف
میاں شہباز شریف نے دورہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں پر چوٹ لگاتے ہوئے ان کے مرسوں مرسوں والے نعرے کو ایک نیا انداز دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ میاں شہباز شریف نے سندھ کے حکمرانوں سے کہا کہ ”مرسوں مرسوں کم نہ کر سُوں“ والا طریقہ اب نہیں چلے گا۔ بس پھر کیا تھا سندھ حکومت کے وزرا نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان پر آسمان سر پراُٹھا لیا۔ جوابی بمباری شروع کر دی ایک صاحب کہنے لگے میاں صاحب سندھ کی نہیںاپنے پنجاب کی فکر کریں۔ دوسرے بولے چھوٹے میاں صاحب اپنے بڑے بھائی کی نااہلی پر جشن منانے کراچی آئے ہیں۔ الغرض بقول غالب
”میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا“
پوری سندھ کابینہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کی ترقی اور وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر خوب جملے کسے۔ مگر کہتے ہیں ”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ حقیقت سب کے سامنے ہے۔ خود کراچی والے اپنے شہر کو لاہور کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی کھل کر کہا کہ اگر عوام نے موقع دیا تو وہ سندھ کو بھی پنجاب کی طرح بنا دیں گے کراچی بھی لاہور کی طرح ترقی کرے گا۔ اب سندھ حکومت کے کرتا دھرتا تھر میں بچوں کی اموات اگر نہیں روک سکتے وہاں ہسپتال نہیں بنوا سکتے تو کم از کم کراچی میں ہی کچرا اٹھوا کر اس کی اصل شکل ہی بحال کر دیں تاکہ کسی کو کچھ کہنے کا موقعہ نہ ملے۔ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں ہی سڑکوں کی حالت بہتر بنا دیں پھر سیہون شریف اور بھٹ شاہ کی باری بھی کبھی نہ کبھی آ جائے گی۔ یہ سیاسی و انتظامی معاملات اپنی جگہ مگر یہ جو مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے مقابلے پر مرسوں مرسوں کم نہ کرسوں کا جملہ میاں صاحب نے کسا ہے اس کا لطف کیا عوام کیا خواص سب اٹھا رہے ہیں۔
٭........٭........٭
دیر میں پہلی بار تحریک انصاف کی حمیدہ شاہدہ نامی خاتون کا الیکشن لڑنے کا اعلان
اس بات پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ خیبر پی کے میں نہ سہی کم از کم دیر جیسے قدامت پرست علاقے میں تبدیلی ضرور آ گئی ہے۔ جن علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ ہو۔ وہاں اگر کوئی عورت الیکشن لڑنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے اور ٹکٹ کیلئے درخواست جمع کراتی ہے تو وہ واقعی کمال کا حوصلہ رکھتی ہے۔ شاہدہ حمیدہ بی بی قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی تحریک انصاف سے اپنے علاقہ دیر سے الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ مانگا ہے۔ اب خدا کرے کہ انہیں ٹکٹ مل جائے۔ باقی جماعتیں بھی اسی طرح کے بہادرانہ فیصلے کر سکیں۔ جن علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا جاتا ان کے ووٹ درج نہیں ہوتے۔ وہاں سے خواتین کو ٹکٹ دینا ایک اچھا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہاں کے عوام میں بھی اس سے شعور آ سکتا ہے کہ وہ اپنی خواتین کو گائے بکری سمجھنے کی بجائے جیتا جاگتا انسان سمجھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی سوا کروڑ سے زیادہ خواتین کے ووٹ درج نہیں کئے گئے۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کے گھر والوں نے درج نہیں کرائے ہوں گے۔ نصف آبادی سے ان کا حق رائے دہی چھیننا کہاں کا انصاف ہے۔ اس ناانصافی کا مداوا اگر تحریک انصاف حمیدہ شاہدہ کو ٹکٹ دے کر تو یہ باقی سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ایک روشن مثال ہو گا....
٭........٭........٭
وزیراعلیٰ بلوچستان کا دورہ کوئٹہ عوام کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے
اچھی بات ہے عرصہ دراز بعد بلوچستان کو ایک ایسا وزیراعلیٰ ملا جو ابھی نوجوان نہ سہی جوان ضرور ہے۔ ویسے بھی کہتے ہیں جوانی کا تعلق دل سے ہوتا ہے عمر سے نہیں۔ عبدالقدوس بزنجو صاحب سے کوئی کام ہوتا ہے یا نہیں کم از کم عوام کا دل جینے کے طریقے تو انہیں آنا چاہئے مگر یاد رکھیں دھیان رہے کوئٹہ والوں کو خوش کرنے کے چکروں میں کہیں وہ اپنے علاقے کو نہ بھول جائیں جہاں سینکڑوں ووٹوں کی بدولت وہ ممبر اسمبلی بنے اور آج وزیر اعلیٰ ہیں وہاں بھی جب جائیں تو اپنے اور اردگرد کے دیہات بھی جاکر وہاں کے ٹوٹے پھوٹے کچے گھروندوں کے باسیوں کے ساتھ بھی سیلفیاں بنائیں ۔ پھٹے پرانے کپڑے اور جوتے پہنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی چائے پئیں اور یہ سیلفیاں محفوظ کر لیں اور سوچیں کہ کیا وجہ ہے یہ گھر اور لباس ابھی تک بدل نہیں سکے۔ ان کے اپنے علاقے کے عوام کیوں ترقی سے محروم رہے جبکہ انہی علاقوں سے ان کا گھرانہ ہمیشہ الیکشن جیتا رہا ہے۔ بلوچستان کی محرومی کے ذمہ دار خود وہاں کے حکمران ہیں۔ کوئٹہ ہماے بچپن میں جنت کا ٹکڑا تھا۔ اب وہاں کے گلی کوچے جو کبھی اوراق گل تھے کچرے کا ڈھیر بنے ہیں کانسی پارک (مالی باغ) ختم ۔ بلدیہ پارک ٹاﺅن ہال میں ضم۔ لیاقت لیڈیز پارک بچا ہوا ہے جبکہ عسکری پارک ویران میدان بنا ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا وزیر اعلیٰ کوئٹہ کو جاتے جاتے سرسبز کسی باغ کا تحفہ ہی دے جائیں جہاں شام کو بچے اور بڑے بیٹھ کر خوش گپیاں لگاتے اور روایتی کشتیاں دیکھتے نظر آئیں....
٭........٭........٭
شیخورہ کے بعد سرگودھا کے ایم پی اے بھی مسلم لیگ چھوڑ گئے
کہتے ہیں جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے چوہے جہاز سے چھلانگ لگاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی کشتی بےشک اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے مگر حالات اتنے بھی بُرے نہیں کہ لوگ بھاگنے کی ٹھان لیں۔ کیونکہ تمام تر کوشش کے باوجود ابھی تک مسلم لیگ (ن) پنجاب کے گلے میں کوئی اتنا بڑا شگاف نہیں پڑا کہ مخالین شادیانے بجاتے پھریں۔ یہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے آئے بھی تو دوسری کسی پارٹی کو چھوڑ کر تھے۔ سو اب وہی کام یہاں بھی کر رہے ہیں۔ دراصل یہ اس قبیلے کی داستان ہے جو ہر آنے والی حکومت کو اپنا قبلہ و کعبہ بنا لیتے ہیں جب اس پربرا وقت آئے تو جان چھڑانے کے لیے اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کرنے لگتے ہیں۔ یہ سیاسی خانہ بدوشوں کا قبیلہ ہے جو ہر لوٹ مار میں شریک رہتا ہے دستر خوان خالی ہوتے ہی سب سے پہلے کوچ کرتا ہے۔ یہ تو غلطی ہمارے حکمرانوں کی ہے جو ایسے فصلی بٹیروںکو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اورکھلاتے پلاتے ہیں۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں ان بے پیندے کے لوٹوںکی خریداری بند کریں تو سیاسی میدان بہت پرسکون ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پھر یہ سیاسی خانہ بدوش صرف اپنا اپنا منہ تکتے رہ جائیں گے۔
٭........٭........٭

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...