پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کی فراہمی

17 اپریل 2018

محکمہ صحت کی خریدی ادویات سے 80 ادویات غیر معیاری۔ مخصوص بیجز پر پابندی۔ ڈرگ ڈیپارٹمنٹ نے ادویات کو سٹورز سے اٹھانا شروع کر دیا۔ ادویات میں دل‘ یرقان‘ درد‘ گلا‘ تیزابیت کے علاوہ اینٹی بائیوٹک ادویات شامل ہیں۔ غیر معیاری قرار دینے کے باوجود سپلائی جاری رہی۔
محکمہ صحت کی طرف سے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو فراہم کرنے کیلئے خریدی گئی ادویات میں سے 80 ادویات غیر معیاری نکلی ہیں جن پر گزشتہ سال سے پابندی ہے۔ اسکے باوجود ان ادویات کی خریداری جاری رہی۔ محکمہ صحت ان غیر معیاری ادویات کی سپلائی کے بارے میں لاعلم کیسے رہ سکتا ہے۔ یہ انسانی زندگی اور صحت کا سوال ہے۔ اس میں کسی قسم کی لاپروائی ناقابل معافی ہے۔ پابندی کے باوجود یہ ادویات ابھی تک سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو دی جا رہی ہیں۔ کیا یہ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں۔ چند برس قبل لاہور میں امراض قلب کے ہسپتال میں ایسی ہی غیر معیاری ادویات کا ایک سکینڈل سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اب غیرمعیاری ادویات کے باعث ایک بار پھر صوبہ کسی ایسے سانحے سے دوچار ہو سکتاہے۔ پنجاب بھر میں عوام کی صحت اور انکی جانوں سے کھیل کر اپنی تجوریاں بھرنے والے متعدد مافیاز گلی محلوں میں ادویات سازی کی فیکٹریاں کھولے ہوئے ہیں جہاں حفظان صحت کے اصولوں سے ہٹ کر جعلی غیر معیاری ادویات تیار کر کے سرکاری ہسپتالوں‘ میڈیکل سٹوروں پر فروخت کےلئے پیش کی جاتی ہیں جس میں ہسپتالوں کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ محکمہ صحت کی غفلت کا یہ حال ہے کہ وہ اس غیر قانونی دھندے پر قابو پانے میں مکمل ناکام نظر آتا ہے۔ کسی بھی شہر میں دیہات میں میڈیکل سٹورز پر یہ ادویات کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں مگر کسی میڈیکل سٹور یا ادویات تیار کرنےوالے کیخلاف کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جاتا۔ جب تک عوام کی جان و مال کے ایسے دشمنوں کو کڑی سزا نہیں دی جاتی یہ مکروہ دھندا بند نہیں ہو سکتا ورنہ 80 بیجز پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ یہ لوگ پھر نئے ناموں سے پھر یہی مکروہ دھندا شروع کر دینگے۔