کوئٹہ چرچ کے قریب دہشتگردی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش

17 اپریل 2018

کوئٹہ میں چرچ کے قریب دہشتگردوں کی فائرنگ سے بچی سمیت دو افراد ہلاک چھ زخمی ہو گئے۔اتوار کومسیحی برادری کے افراد مذہبی سروسز کے بعد گھر جارہے تھے کہ موٹرسائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔زخمیوں اور لاشوں کو بی ایم سی ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث زخمیوں کے ورثاءمشتعل ہوگئے اور ایمرجنسی وارڈ کا دروازہ توڑ دیا۔
کوئٹہ میں فرقہ واریت کئی افراد کی جان لے چکی ہے۔ اس شہر میں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں۔ ان دونوں کی شدت پسندی کی وارداتوں پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں بین المسالک ہم آہنگی اور علیحدگی پسندوں کو قومی دھاوے میں لانے کی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔ کچھ عرصہ سے فرقہ ورانہ شدت پسندی کے واقعات رک گئے ہیں ۔ شدت پسندی اور دہشتگردی کی ڈوریں بیرونی ممالک سے بھی ملائی جاتی ہیں۔ پاکستان مخالف بیرونی قوتوں کیلئے کام کرنےوالے ارض پاک پر ایک بوجھ ہیں۔ یہ بزدل طبقہ سوفٹ ٹارگٹ کی تلاش میں رہتا ہے۔ دشمن پاکستان کے اقلیتوں کے تحفظ کے مثبت امیج کو تباہ کرنے کےلئے سرگرم رہا ہے۔ مسیحیوں پر حملہ شاطر دشمن کی پاکستان کو اقلیتوں کی حفاظت کے حوالے سے بدنام کرنے کی سازش نظر آتی ہے۔ جہاں اسکو ہر صورت ناکام بنانے کی ضرورت ہے وہیں کوئٹہ جیسے حساس شہر میں ہسپتال کے عملے کی عدم موجودگی اور غفلت بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو ہسپتال سٹاف کی لاپروائی اور ہلاک شدگان کے ورثہ اور زخمیوں کے ساتھ مذموم رویے کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔