ہمیں اب کشمیریوں کے ساتھ دامے‘ درمے‘ سخنے تعاون سے بھی کچھ آگے کا سوچنا چاہیے

17 اپریل 2018

ایرانی سپریم لیڈر کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش اور معصوم آصفہ کیساتھ ہندوﺅں کی بربریت پر پورا بھارت سراپا احتجاج
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور جارحیت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے ذریعے حکومت کرنیوالوں کو پیچھے دھکیل دینگے اور مستقبل قریب میں دشمن کو نیچا دکھائیں گے۔ گزشتہ روز تہران میں شب معراج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ تحریک حریت اور عزم استقلال کے نتیجے میں قابضین کا پسپا ہونا قدرت کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر‘ عراق‘ افغانستان‘ شام‘ فلسطین اور میانمار کے عوام اپنی جدوجہد کے نتیجہ میں جلد دشمنوں پر غالب ہو جائینگے۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے کٹھوعہ کی آٹھ سالہ معصوم آصفہ بانو کے ساتھ ہندو جنونیوں کی اجتماعی زیادتی اور اسکے بہیمانہ قتل کیخلاف مظاہرے پورے بھارت میں پھیل گئے ہیں اور ہزاروں خواتین بھی سڑکوں پر آگئی ہیں جن کی قیادت معروف بھارتی اداکار عامر خان کی اہلیہ کرن راﺅ کررہی ہیں۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ ممبئی‘ احمدآباد‘ جے پور‘ اترپردیش اور بہار میں بھی مظاہرین بشمول خواتین نے آصفہ کی تصویر کے پلے کارڈ اٹھا کر ریلیاں نکالیں اور آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ اورنگ آباد میں رات کو سینکڑوں افراد نے مشعل بردار جلوس نکالا اور آصفہ کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ بھارتی حکمران بی جے پی نے اس واقعہ کی بنیاد پر ملک بھر میں سامنے آنیوالے سخت ردعمل کی بنیاد پر مجرموں کے سرپرست اپنے دو وزراءچندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ سے استعفے لے لئے اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے‘ جنہوں نے خود انکے استعفوں کا تقاضا کیا تھا‘ فوری طور پر استعفے منظور کرلئے۔ چنانچہ محبوبہ مفتی کی حکومت پر پڑنے والا دباﺅ کم ہوگیا ہے اور محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی میں اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا نریندر مودی کے دور حکومت میں ہی نہتے‘ بے گناہ کشمیری عوام کو کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مودی سرکار اپنی پہلے سے طے شدہ پالیسی اور ایجنڈے کے تحت مسئلہ کشمیر کا بزور ٹنٹا ختم کرنے کے درپے ہے جس کیلئے بھارتی جنونیت کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھی دیدنی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کو کشمیری عوام کیلئے عملاً نوگو ایریا بنا دیا گیاہے جہاں مودی کے اقتدار سے اب تک حق خودارادیت کیلئے آواز اٹھانے والے سینکڑوں کشمیری عوام بشمول نوجوان‘ خواتین اور بچوں کو بے دردی کے ساتھ اسرائیلی ساختہ گنوں سے نشانہ بنا کر شہادت کی منزل سے ہمکنار کیا گیا جبکہ سینکڑوں نوجوان بشمول خواتین مستقل اندھے اور اپاہج ہوکر معذوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کشمیریوں پر نئے ہتھکنڈوں سے ظلم و جبر کا سلسلہ نوجوان کشمیری لیڈر برہان مظفروانی کی بھارتی فوجوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد کشمیریوں کے احتجاج اور دوسرے ردعمل کو دبانے کیلئے شروع کیا گیا جو نہ صرف ہنوز جاری ہے بلکہ اس ظلم و جبر میں شدت بھی پیدا ہوچکی ہے۔
بھارتی فورسز کے ایسے ہتھکنڈوں کیخلاف آزادی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی تگ ودو میں مصروف کشمیریوں کی نوجوان نسل میں زیادہ شدت کے ساتھ ردعمل پیدا ہوا جنہوں نے اپنے لیڈر وانی کی شہادت کے بعد اب تک نہ صرف آزادی کا پرچم گرنے نہیں دیا بلکہ اس پرچم کو سربلند بھی رکھا ہے جبکہ انہوں نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے پل پل کے مظالم سے پوری دنیا کو باخبر رکھا ہوا ہے‘ نتیجتاً اس وقت تمام مو¿ثر عالمی اور علاقائی فورموں پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انکے حق خودارادیت کی حمایت کی جارہی ہے اور بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بند کرنے کا تقاضا کیا جارہا ہے۔ اس تناظر میں کسی عالمی فورم پر فلسطینی‘ روہنگیئن اور دوسرے معتوب مسلمانوں کیلئے آواز بلند ہوتی ہے تو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھی ساتھ ہی وکالت کی جاتی ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی مختلف قراردادوں کے ذریعے انہیں دے رکھا ہے۔
بھارت کی مودی سرکار چونکہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے تعصبات اور انتہاءپسندانہ سوچ کے باعث انہیں معتوب رکھنا اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنا چکی ہے اس لئے اسکی جانب سے بطور خاص مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کو کچلنے اور بزور انکی آواز دبانے کے نت نئے حربے اختیار کئے جارہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ اسکی جانب سے پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی بڑھانے اور روزانہ کی بنیاد پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیزفائر کی کھلم کھلا ختم ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں ہمارے بیسیوں سکیورٹی افسران اور اہلکاروں کے علاوہ بیسیوں سویلینز بھی شہادتوں سے ہمکنار ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں باشندے اب تک سول آبادیوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ مودی سرکار اس زعم میں ہے کہ وہ مظالم کے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کرکے اور پاکستان پر دہشت گردی اور دراندازی کا ملبہ ڈال کر کشمیریوں کا حق خودارادیت غصب رکھنے میں کامیاب ہو جائیگی مگر آج حیران کن طور پر اقوام عالم میں مودی سرکار کے مظالم کیخلاف اٹھنے والی آوازوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ ہفتے یواین سیکرٹری جنرل بھی کشمیریوں کیخلاف جاری مظالم پر خاموش نہ رہ سکے جنہوں نے چین کی باﺅ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے دوران نہ صرف کشمیری عوام پر ڈھائے جانیوالے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ انکے حق خودارادی سے متعلق پاکستان کے مو¿قف کی تائید بھی کی۔
اب کٹھوعہ میں ایک مسلمان گجر خاندان کی آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کی جنونی ہندوﺅں کے ہاتھوں مندر میں قید‘ اسکے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے تین ماہ قبل کے واقعہ کے حقائق منظر عام پر آنے کے بعد جس شدت کے ساتھ پورے بھارت میں ہر مکتبہ فکر کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے‘ اس سے بالخصوص کشمیری مسلمانوں کیخلاف ہندو انتہاءپسندوں اور انکی نمائندہ مودی سرکار کے عزائم بھی اسی سرعت کے ساتھ پوری دنیا میں بے نقاب ہورہے ہیں۔ چنانچہ دوسری عالمی اور مسلم قیادتوں کی طرح گزشتہ روز ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای بھی کشمیری مسلمانوں کیخلاف بھارتی مظالم پر خاموش نہ رہ سکے جنہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ کشمیری عوام تشدد کے ذریعے حکومت کرنیوالوں کو اپنی جدوجہد کے ذریعہ بالآخر پیچھے دھکیل دینگے۔ مودی سرکار کی تو اس وقت یہی کوشش ہے کہ وہ پاکستان پر مقبوضہ وادی میں دراندازی کا لیبل لگا کر اور اس پر دہشت گردی کا ملبہ ڈال کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے دنیا میں اٹھنے والی بیداری کی لہر کا رخ موڑ دے مگر اسکے اختیار کردہ مظالم کے ہتھکنڈے اس شعر کے مصداق انکے مظالم کی دنیا کو خود ہی خبر دے رہے ہیں کہ....ع
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر‘ لہو پکارے گا آستیں کا
گزشتہ دو ہفتے کے دوران غاصب بھارتی فوجوں اور دوسری فورسز نے مقبوضہ وادی میں نہتے اور بے گناہ کشمیری عوام پر جس وحشیانہ انداز میں مظالم کے پہاڑ توڑنا شروع کر رکھے ہیں جن کے نتیجہ میں کشمیریوں کے قتل عام کے پوری دنیا میں چرچے ہیں‘ اسکے باعث یقیناً کشمیریوں کی آزادی کی منزل مزید قریب آرہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ وادی میں تقریباً تمام کشمیری حریت قائدین زیرحراست یا نظربند ہیں اسکے باوجود آزادی کے متوالے کشمیری عوام سینہ سپر ہو کر غاصب بھارتی فوجوں کو چیلنج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور اپنے آزادی کے کاز کیلئے بخوشی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی شوپیاں میں بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونیوالا ایک جوان شہید ہوا ہے جبکہ بھارتی پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے مستقل اندھے اور اپاہج ہونیوالے سینکڑوں کشمیری نوجوان اس وقت اپنے کاز کے حوالے سے دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ اب معصوم آصفہ کی عزت و جان کی قربانی نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو مہمیز لگا دی ہے چنانچہ آج مقبوضہ وادی ہی نہیں‘ پورا بھارت آزادی کے نعروں سے گونج رہا ہے اس لئے وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی منزل سے ہمکنار ہونگے اور ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای کے بقول غاصبوں کو پیچھے دھکیل دینگے۔ ہمیں ان فیصلہ کن مراحل میں کشمیری عوام کے ساتھ دامے‘ درمے سخنے تعاون سے بھی کچھ آگے کا سوچنا چاہیے اور اقوام عالم میں مو¿ثر سفارتی کردار ادا کرکے کشمیریوں کی پاکستان سے الحاق کی جدوجہد کی کامیابی میں معاون بننا چاہیے۔ بے شک اب معصوم آصفہ کا خونِ ناحق رنگ لا کررہے گا۔