حکومت مدد کرے نہ کرے محنت جاری ہے انعام بٹ

17 اپریل 2018

اسلام آباد(آئی این پی) کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا واحد گولڈ میڈل جیتنے والے پہلوان انعام بٹ نے کہا ہے کہ طلائی تمغہ جیتنا میرے کیلئے بہت ضروری تھا، جب گولڈ کوسٹ پہنچا تو صرف اور صرف گولڈ میڈل کے بارے میں سوچ رہا تھا، ہر قیمت پر گولڈ میڈل جیتنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گذشتہ کامن ویلتھ گیمز کے ریسلنگ مقابلوں میں جب بھارت کا ترانہ بجا تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ ہمارا قومی پرچم اور قومی ترانہ کیوں نہیں؟انھوں نے بتایا کہ میں گلاسگو میں گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہو گیا تھا اور ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ میں چھ ماہ تک ریسلنگ نہیں کر سکتا اس کے باوجود میں نے ایک ٹانگ پر مقابلے کیے اور تین فائٹس جیتیں لیکن کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والی فائٹ چھ چھ پوائنٹس سے برابر ہونے کے بعد ٹیکنیکل بنیاد پر ہارا تھا۔انعام بٹ نے کہا کہ اس بار کامن ویلتھ گیمز سے قبل میں نے حکومت سے ٹریننگ کے لیے مالی مدد کی جو اپیل کی تھی اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔میری ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں میں نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ مجھے کامن ویلتھ گیمز کی ٹریننگ کے لیے دس لاکھ روپے دے اور اگر میں تمغہ نہ جیت سکوں تو میں یہ رقم واپس کردوں گا لیکن میری اس اپیل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور مجھے ٹریننگ کے لیے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن اور اپنی مدد آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑا۔ پتہ نہیں اب میں کونسا میڈل جیتوں گا جس پر میرا نام بھی پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے نامزد کیا جائے گا۔انعام بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اب اس بات پر توجہ دے کہ کون سا کھیل اور کون سا شہر پاکستان کو سب سے زیادہ میڈلز جیت کر دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ ان دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے جو کل پانچ تمغے جیتے ہیں ان میں سے تین تمغے جیتنے والوں کا تعلق گوجرانوالہ سے ہی ہے۔ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ میں پاکستان بین الاقوامی مقابلوں میں سب سے زیادہ تمغے جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے اور اس میں گوجرانوالہ شہر کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کھیلوں کے سلسلے میں گوجرانوالہ شہر میں مضبوط انفرااسٹرکچر قائم کرے۔