خشک دودھ کی درآمدات پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو کم کیا جائے:مفسر عطا ملک

17 اپریل 2018

کراچی(کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدرمفسر عطا ملک نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ قانونی طریقے سے خشک دودھ کی درآمدات کو فروغ دینے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے خشک دودھ کی درآمدات پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو کم کیا جائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ خشک دودھ چمن اور طورخم سرحد سے بغیر کسی جانچ پڑتال کے بڑے پیمانے پر اسمگل کیا جاتا ہے۔ ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی زائد شرح کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مارکیٹوں میں غیر قانونی طریقے سے خشک دودھ بڑی مقدار میں لایا جارہاہے جو نہ صرف ریونیو کی مد میں خطیر نقصانات کا باعث بن رہاہے بلکہ اس سے قانونی طریقے سے خشک دودھ کی درآمدات کی بھی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔مفسر ملک نے کہا کہ خشک دودھ کے درآمد کنندگان کے وفد نے حال ہی میں اقبال طیب کی سربراہی میں کراچی چیمبر کا دورہ کیا اور زائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی وجہ سے درآمدکنندگان کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا جس کے نتیجے میں خشک دودھ کی درآمدی لاگت تقریباً 55 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خشک دودھ کی درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی، 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ، ایک فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اور 6 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے جنہیں کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انھوں نے خشک دودھ پر عائد ناجائز ریگولیٹری ڈیوٹی کو مکمل طور پر ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں فراہم کیا جانے والا تازہ دودھ مجموعی طلب اور اس سے منسلک دیگر مصنوعات کی مانگ کو پورا نہیں کرسکتا ۔