لو اب سندھ بھی بدل گیا۔

17 اپریل 2018

سندھ میں تبدیلیوں کی ممکنہ لہر اب چل نکلی ہے،ایک کراچی ہی نہیں بلکہ پورے سندھ کی سیاست کروٹ بدلنے کو ہے ،سندھ میں وہ ہی لوگ پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی تیاریوں میں ہیں جن کا جینا مرنا کبھی پیپلزپارٹی کے لیے ہواکرتا تھا ،سندھ میں بنیادی ضروریات زندگی صاف پانی ،صحت ،ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی نظا م سمیت کچھ بھی بہتر نہیں ہے صوبہ سندھ کی زمین کثیر تعداد میں سیاسی جماعتوں سے بھری بڑی ہے ،ایک وقت تھا کہ پیپلزپارٹی سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی مگر اب وہ وقت بدل گیاہے پیپلزپارٹی اپنے کرتوتوں اور عوامی مسائل سے نظریں چرانے کے باعث سندھ کے عوام کے دلوں سے اتر رہی ہے،اس کے علاوہ سندھ میں مسلسل گیارہ برسوں سے حکومت بنانے والی پیپلزپارٹی نے سندھ کے عوام کا اس انداز میں استحصال کیاہے کہ کہیں سندھ کے عوام بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں تو کہیں غذائی قلت کے باعث معصوم بچے دم توڑ رہے ہیں غرض بنیادی سہولیات سے محروم سندھ کے عوام یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے حکمران روٹی کپڑاور مکان دینے کی بجائے یہ تمام چیزیں ان سے چھین رہے ہیں،اندرون سندھ میں تعلیم کاگلا جان بوجھ کر گھونٹا گیا یعنی لوگ ان پڑھ ہونگے تو خاموش بیٹھے رہیں گے ان کے پاس تعلیم ہوگی تو شعور ہوگا پھر یہ اپنے لیے صحت تعلیم اور صاف ستھرا نظام مانگیں گے اور سب سے بڑھ کر اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے اس لیے پیپلزپارٹی نے سندھ کے عوام کو تعلیمی نظام کی بھنک بھی نہ پڑنے دی اور سندھ کے عوام کو اپنے غلاموں میں شامل کرلیا۔ اندرون سندھ کی سرزمین پر قوم پرستوں سمیت دیگر مختلف جماعتوں کا وجود کچھ اس طرح سے ہے کہ جن پر سندھ کی عوام کا کبھی اعتبار نہیں رہااگر ہوتا تو یقیناان میں سے کوئی جماعت تو پیپلزپارٹی کے متبادل کھڑی ہوتی، مگر جس انداز میں گزشتہ چند سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کا رول سندھ میں دکھائی دے رہاہے اس نے بہت سے مبصرین کی رائے کو تبدیل کر دیاہے ، سندھ کی زمین پرایک حیرت انگیز ماحول نے جنم لینا شروع کردیاہے محرومیوں کا شکار سندھ کے عوام نے اب اپنے حقوق کی خاطر بولنا شروع کردیاہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے حالیہ دورہ سندھ نے جس اندازمیں ایک نئی تاریخ کو رقم کیا ہے اسے چند لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتاہے ۔میں گزشتہ کئی برسوں سے سندھ کے گوٹھوں کے دورے کرتا رہاہوں ہرجگہ گھوما پھرا لوگوں سے ملااور ان کے تاثرات بھی لیے مگر ان لوگوں کے تاثرات نہ بدلے مگر اس بار ماحول کچھ بدلا بدلا سا لگ رہاہے جن لوگوں سے بھٹو زندہ ہے کے نعرے سنا کرتاتھا آج وہ ہی لوگ ان کے کرپشن کی داستانیں اس طرح سنارہے ہوتے ہیں جیسے کہ عمرا ن خان مجھے پیپلزپارٹی کے رہنما رضاربانی کا یہ بیان رہ رہ کر یاد آتاہے جب اس نے کہاتھا کہ پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم میں 25Aکو شامل کروایااس آرٹیکل کے تحت ریاست ہر شہری کو میٹرک تک مفت تعلیم دینے کی پابند ہے ،گزشتہ گیارہ سالوں سے سندھ اور دو بار وفاق میں حکومت بنانے والوں نے کیا اپنی ہی بنائی گئی اس ترمیم پر عمل کیا؟ سندھ کے عوام اب یہ تمام حربے اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔
سندھ کے عوام اب اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں اپنے حکمران اب خود چننا چاہتے ہیں ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سندھ کے جس جس کونے میں عمرا ن خان کا قافلہ گزرتا رہا لوگ ہزاروں کی تعداد میں گھروں سے نکلتے رہے اور سندھ کے عوام کو اپنا زرخرید غلام سمجھنے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ، یہاں کے عوام اب متبادل قیادت کی تلاش میں ہیں ان کے لیے عمران خان دورہ کسی خدائی مددگار کی طرح نظر آیا، پچاس فیصد عوام کے لبوں پر یہ بات کہ اب سب کو آزمالیا ہے اب عمران خان کو ووٹ دینگے یہ لمحات خوشی کا باعث نہ سہی مگرحیرت کا باعث ضرور ہیں لوگوں میں شعور کی تبدیلی میرے لیے اس وقت خوشی کا باعث بنی جب میرا گزر سندھ کے ایک پسماندہ علاقے کھپروسے ہوا جہاں میری ملاقات کھیتوں میں مایوس کھڑے ایک کسان سے ہوئی میں نے پوچھا بابا کیسے ہو تو اس نے جہاں اپنے دکھوں کا ذکر کیا وہاں یہ بھی کہہ ڈالا کہ سندھ کی دھرتی اب مزید دکھوں کو برداشت نہیں کرسکتی ہم نے پیپلزپارٹی سمیت سب کو آزمالیا نوازشریف بھی الیکشنوں کے زمانے میں ہی نظرآتاہے وعدے کرتا ہے اور پھر چلاجاتاہے اب ہم ان میں سے کسی کو ووٹ نہیں دینگے سب جھوٹے اور مکار ہیں اب ہم عمران خان کو آزمائینگے ۔ میں کسان کی باتیں حیرانی سے سن رہا تھا اور سوچ رہاہے تھا کہ لوگوں کا ذ ہن اب تیزی سے بدل رہاہے لوگ اپنے اچھے اوربرے کی تمیز کرنے لگے ہیںعمران خان کا دورہ سندھ یقینا تاریخ کا رخ موڑنے کے مترادف ہے کیونکہ تحریک انصاف کے لیے سندھ کی زمین بنجر نہیں ہے بس تھوڑا ساوقت اورمحنت کی ضرورت ہے ۔