پولیس کا سیاسی استعمال روکنے کی ضرورت ۔

17 اپریل 2018

پاکستان بھر میں جنرل الیکشن کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں سیاسی پارٹیاں ووٹرز کو قائل کرنے کے لیے جلسے جلوس کررہی ہیں جبکہ سیاسی ورکر اپنی اپنی پارٹیوں کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں لیکن سب سے اہم بات پاکستان بھر میں پولیس کے سیاسی استعمال کو کیسے روکا جا سکتا ہے اس حوالے سے ہو سکتا ہے کہ پاکستان بھر میں پولیس کا سیاسی استعمال روکنے کے لیے پولیس سروسز آف پاکستان کے افسران کے بین الصوبائی تبادلے ہوں جبکہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس ڈی ایم جی گروپ کے افسران کے تبادلے بھی ہو ں کیونکہ اگر صوبے میں ایک ضلع سے دوسرے اضلاع میں افسر کو تعینات کیا گیا تو وہ پانچ سال سے جو حکومت اسے من پسند پوسٹنگ دے رہی تھی تو اس پولیس افسر کی . لا محالہ ہمدردیاں اس سیاسی جماعت کے ساتھ ہوں گی۔ ویسے تو وفاق میں نون لیگ کی حکومت تھی لیکن سوائے فواد حسن فواد کے نون لیگ بیوروکریسی میں کسی پر اعتماد نہیں کرتی تھی۔محکمہ داخلہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے پاس ہونے کی وجہ سے وفاقی ادارے نون لیگ کی دسترس سے باہر ہیں پنجاب میں دس سال سے مسلسل نون لیگ کی حکومت ہونے کے باعث پولیس افسران اور سیکرٹری لیول کے افسران کی ہمدردیاں نون لیگ کی طرف ہوں گی اسی طرح سندھ میں پیپلزپارٹی کی مسلسل دس سال سے حکومت ہونے کے باعث سیکرٹری لیول کے افسران اور ڈپٹی کمشنر سمیت بعض پولیس افسران کا مخصوص گروپ پی پی کو الیکشن میں فیور دے سکتے ہیں فیور دینے کے مختلف طریقے ہیں جیسے ہی نگراں حکومت آئے گی اس سے پہلے پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر کے تبادلے پاکستان بھر میں ہوں گے اور بظاہر الیکشن کمیشن کو دکھانے کے لئے ان افسران کی پوسٹنگ کر دی جائے گی لیکن کیا یہی افسران ان سیاسی جماعتوں کے دباؤ سے باہر آسکیں گے کیونکہ پاکستان میں آج تک بالخصوص پولیس میں سیاسی اثر رسوخ کے باعث ٹرانسفرپوسٹنگ ہوتی رہی ہیں پولیس کہیں نہ کہیں سیاسی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے بات کررہا تھا کہ افسران فیور کیسے دیں گے تو جناب جب نگراں حکومت میں کوئی گرفتاری ہوگی علاقائی سطح کے سیاسی لیڈران کو پولیس کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے پریز ائیڈنگ افسران سے من پسند رزلٹ بنوائے جاتے ہیں اور ان کے سامنے جعلی ووٹ بھی کاسٹ کئیے جاتے ہیں۔گوکہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے لیکن پھر بھی جعلی ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں جس کو روکنے کے لئے نہ تو آج تک الیکشن کمیشن نادرہ کے ساتھ مل کر کوئی لائحہ عمل بنا سکی۔ بائیو میٹرک کے ذ ریعے اگر ووٹ کاسٹ ہوتا تو شاید جعلی ووٹ کاسٹنگ روکی جاسکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کرے گا کون ؟چیف جسٹس آف پاکستان اگر کوئی حکم دیتا ہے تو سیاسی پارٹی کے لیڈران شور مچاتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا اگر ادارے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی مداخلت کا الزام لگتا ہے۔دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے الیکشن سے پہلے اپنی حکمت عملی بنا لی ہے جیسے لاہور کے سی سی پی او حیدر اشرف اور راولپنڈی کے سی سی پی اواسرار عباسی کو ہٹا کر یہ پیغام دیا گیا کہ ہم میرٹ پر پوسٹنگ کرینگے جبکہ یہی افراد الیکشن سے قبل دوبارہ اہم عہدوں پر تعینات کردیے جائیں گے تاکہ وہ دوبارہ ان کے لیے کام کرسکیں سندھ میں بھی اگر آئی جی سندھ ا ے ڈی خواجہ کا تبادلہ ہوتا ہے تو 2 سال سے پولیس کا وہ گروپ جو سیاسی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود من پسند پوسٹنگ حاصل نہ کر سکا تھا پوسٹنگ حاصل کرکے سیاسی رہنماؤں کو بھی خوش کرے گا اور اپنی خواہشات بھی پوری کرے گا۔جبکہ جو ایماندار افسران جن کی میرٹ پر پوسٹنگ ہوئی اور دوسال سے سیاسی دباو کا شکار نہیں ہوئے ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو جائیں گے ان تمام باتوں کا ایک ہی حل ہے کہ اگر پولیس افسران سمیت دیگر ایڈمنسٹریٹیو افسران کے تبادلے بین الصوبائی کیے جائیں تو پھر کافی حد تک پولیس کا سیاسی استعمال روکا جا سکتا ہے۔