اسٹریٹ کرائم

17 اپریل 2018

اسٹریٹ کرائم جو کہ شہر قائد میں اب ایک عام بات لگتی ہے۔ تقریباً ہر جگہ لوگ اس کے شکار بنتے ہیں ۔ سب سے زیادہ نشانہ موبائل فون کی وجہ سے بنتے ہیں۔ حیرت اس بات کی ہوتی ہے جب یہ سننے کو ملتا ہے کہ کرائم کرنے والے کوئی ان پڑھ نہیں بلکہ ڈگری یافتہ لوگ ہیں۔ بہت بڑی وجہ اس بات کی یہ ہے کہ حکومت نوکری کے مواقع فراہم نہیں کرتی ہے اور حق دار عوام کو وہ جگہ نہیں، مل پاتی ہے۔ بالاخر وہ تعلیم یافتہ شخص ایسے کاموں پر لگ جاتا ہے ۔ اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی قیمتی چیزوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں اب بہت سے ایسے لوگ ہیں جو موبائل فون یا زیادہ پیسے باہر لے جانے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے چور دماغی اور جسمانی طور پر تیار ہو کر آرام سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف رات میں ہوتے ہیں بلکہ دن دہاڑے بھی ہو جاتے ہیں ۔ میری آپ کے معتبر اخبار کی توسط سے حکومت سے درخواست ہے کہ شہر کے سیکورٹی انتظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بھی ایسے حادثات کا شکار نہ بنے ۔ اور جو لوگ ایسے حادثات کا شکار بنتے ہیں انہیں چاہیے فوری طور پر شکایت درج کروایں کیونکہ جب تک ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھے گی ظلم بڑھتا جائے گا ۔) طوبیٰ حیدر ۔ کراچی)