ایشین بیچ گیمز میں قومی پرچم بلند کرنے پر خوش ہیںمحمد عمارسندس خان

16 نومبر 2014

لاہور (حافظ محمد عمران، نمائندہ سپورٹس) ایشین بیچ گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرکے ملک کا نام روشن کرنے اور سبز ہلالی پرچم کو سربلند کرنے کی بے حد خوشی ہے، اپنی کامیابی کیلئے پُرامید تھا۔ مختصر سے تربیتی کیمپ کے باوجود ہمارے کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایشین بیچ گیمز میں گولڈ اور سلور میڈل حاصل کرنیوالے جوجٹسو کے باصلاحیت کھلاڑی محمد عمار نے نوائے وقت کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوجٹسو کے فروغ کیلئے سال میں چار قومی سطح کے ٹورنامنٹس کا انعقاد ضروری ہے۔ کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت محنت کر رہے ہیں۔ ایک کھلاڑی کا 350 ہزار ماہانہ خرچ آتا ہے۔ جوجٹسو کے کھلاڑی گذشتہ کئی برس سے بین الاقوامی مقابلوں میں میڈلز حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ بھی جوجٹسو کے فروغ کیلئے اپن اکردار ادا کرے۔ کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی سے کھیل کے فروغ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایشین بیچ گیمز میں سلور میڈل حاصل کرنیوالی جوجٹسو پلیئر سندس خان نے کہا کہ ہم نے بنکاک میں میڈلز جیتے نہیں چھینے ہیں۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی مدد آپ کے تحت ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہمیں بنیادی سہولیات مہیا نہیں کی جاتیں۔ زیادہ سے زیادہ تربیتی کیمپ اور قومی سطح کے ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جائے۔ ہم ملک کا جھنڈا سربلند کرنے کے عزم کے ساتھ بنکاک گئے تھے، کامیاب رہے۔ اب دیکھتے ہیں حکومت ہمارے لئے کیا کرتی ہے۔