پاک فوج کے آپریشن سے طالبان اور انتہاپسند منتشر ہو رہے ہیں : لیزا کرٹس

16 نومبر 2014

واشنگٹن(آئی اےن پی) معروف امریکی تھنک ٹینک ’ہیرٹیج فاو¿نڈیشن‘ میں جنوبی ایشائی امور کی ماہر لیزا کرٹس نے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں طالبان اور عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو ’خوش آئند‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاک فوج کے آپریشن کے نتیجے میں طالبان اور انتہاپسند عناصر تتر بتر اور منتشر ہو رہے ہیںاور ان کی مرکزیت پر ضرب لگی ہے اور حملے کرنے کی ان کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے،پاکستان کے قبائلی علاقوں مےں ڈرونز نے القاعدہ کی قیادت کو بھاری نقصان پہنچانے اور حملے کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم ڈرونز کے ساتھ معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔امرےکی نشرےاتی ادارے کو انٹروےو مےں انہوں نے ایک امریکی کمانڈر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان شمالی علاقوں میں اپنی سرحد کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف جو کارروائیاں کر رہا ہے، اس سے افغانستان میں صورت حال بہتر ہونے میں مدد مل رہی ہے۔ جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کی راہ ہموار ہوگی اور نئے افغان صدر کے لئے بھی ایک موقع پیدا ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے کی سمت پیش رفت کریں۔جنگجوو¿ ں کے ساتھ صرف میدان میں ہی نہیں بلکہ نظریات کے محاذ پر بھی لڑنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر انتہاپسندی پر مبنی نظریات کی تشہیر روکنے اور نوجوانوں کو اس کے سحر سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کی اکثریت انتہاپسندی کے نظریات کے خلاف ہے۔ ’اسلامک سٹیٹ‘ کے جنگجوو¿ں کے خلاف زیادہ سخت رویہ اختیار کرنے کے لئے دباو¿ بڑھے گا اور ری پبلیکنز یہ چاہیں گے کہ انتہا پسند جنگجوو¿ں کے خلاف شام اور عراق میں صرف فضائی حملوں پر ہی اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اپنے فوجی دستے بھی زمین پر اتارے جائیں۔ افغانستان اور پاکستان میں اسلامک سٹیٹ کے قدم جمانے سے متعلق خطرے پر گفتگو کرتے ہوئے کرٹس کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتی کہ افغانستان میں وہی غلطی دہرائی جائے گی جو ہم عراق میں کر چکے ہیں۔ عراق سے مکمل امریکی فوجی انخلاءنے اسلامک سٹیٹ کے جنگجوو¿ں کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا۔