تھر میں قحط اور بیماریوں سے 5 اور بچے دم توڑ گئے

16 نومبر 2014

مٹھی (نیٹ نیوز+ نوائے وفت رپورٹ) تھرپارکر میں قحط اور غذائی قلت سے مزید 5 بچے دم توڑ گئے۔ 46 روز میں ہلاکتوں کی تعداد 74 تک جا پہنچی۔ ڈیپلو کے نواحی گائوں سینھرکھی میں دو دن کا نیاز، چار ماہ کا رشید اور موجایو میں دو دن کا فاروق دم توڑ گئے۔ علاقہ مکینوں نے اس حوالے سے بتایا ہمارے گائوں میں صحت کی سہولیات اور اجناس کی قلت ہونے کی وجہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب سندھ حکومت کے دعوؤں کے باوجود تھرپارکر میں قائم ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر تعیناتی نہ ہو سکی۔ دریں اثناء پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کی ہدایات پر پاک فضائیہ کا ایک سی 130 طیارہ   تھرپارکر کے قحط  سے متاثر علاقے  میں  امدادی سامان لیکر پی اے ایف  کے فارورڈ بیس تلہار پہنچا۔ کھانے پینے کی اشیاء میں 13,000 کلو پر مشتمل دودھ، دوائیاں اور کھانے پینے کا سامان تھا جو پاک فضائیہ  کے تمام افراد کی جانب سے یہ اشیاء بیس کمانڈر پی اے ایف بیس فیصل، ائر کموڈور شاہد لطیف باجوہ نے پی اے ایف تلہار بیس حکام کے حوالے کیں جو بعدازیں ضلع مٹھی، تھر پارکر (سندھ) کے علاقوں چیلار، سُرم اور ہریار میں تقسیم کی گئیں۔علاوہ ازیں نگرپارکر کے ہسپتال میں 4 روز کا ایک بچہ دم توڑ گیا۔