مظفر گڑھ: مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کی نعش رکھ کر دھرنا، جمشید دستی شریک

16 نومبر 2014

مظفر گڑھ (آئی این پی)علی پور میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت کیخلاف اس کے لواحقین کا ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دیا، مظاہرین نے لاش سڑک پر رکھ کر کراچی روڈ کو 27گھنٹے تک ٹریفک کے لیے بلاک رکھا ۔ جمعرات کی رات مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے گھلواں میں ریڈ کے لیے جانے والی پولیس ٹیم پرمسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار منظور شدید زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد مڈوالاکے جنگل میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے نتیجے میں ایک شخص خضر گھلو بھی مارا گیا، پولیس کی مطابق مذکورہ شخص مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلا ک ہوا اور ڈکیتی اور سنگین نوعیت کی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ دوسری جانب لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس نے خضر گھلوکو زندہ گرفتار کیا تھا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا۔ مظاہرین نے گزشتہ رات8بجے سے علی پور میں کالج چوک پر لاش رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا، بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا جس کے بعد کراچی روڈ پر ٹریفک دوبارہ بحال ہوگئی۔
پولیس مقابلہ/ احتجاج