نوازشریف صاحب آپ کا پیغام آیا‘ اشتہاری ہوں نہیں مل سکتا‘ میری ٹیم مذاکرات کرے گی: عمران

16 نومبر 2014
نوازشریف صاحب آپ کا پیغام آیا‘ اشتہاری ہوں نہیں مل سکتا‘ میری ٹیم مذاکرات کرے گی: عمران

ساہیوال+ اسلام آباد (نامہ نگار+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات نہیں کروں گا‘ حکومت سے مذاکراتی ٹیم بات کریگی‘ مجرم میں نہیں نوازشریف اور آصف زرداری ہیں اور انصاف  لئے بغیر دھرنا ختم نہیں کروں گا‘ نواز شریف پاکستان کی بجائے پنجاب کے وزیراعظم بنے ہوئے ہیں‘ خیبر پی کے حکومت اپنے حقوق لینے کیلئے وفاق کیخلاف سپریم کورٹ جا رہی ہے‘ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے‘ بلوچستان کے حالات فوج سے نہیں انصاف سے ٹھیک ہوں گے‘ 30 لاکھ آئی ڈی پیز وفاق کی ذمہ داری ہیں ہمیں ناکام کرنے کیلئے آئی ڈی پیز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ نوازشریف اور آصف زرداری پر مقدمات کے باوجود اشتہاری قرار نہیں دیا گیا‘ دھاندلی زدہ حکومت کے ہوتے ہوئے انصاف نہیں مل سکتا، یہاں عدلیہ اور الیکشن کمشن میں پیسہ چلتا ہے۔ آصف زرداری لاڑکانہ جلسہ سے خوفزدہ ہیں‘ اقتدار میں آکر اداروں میں درباری نہیں لگائیں گے۔ وہ ساہیوال میں جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز نے 17 ماہ تک انصاف نہیں دیا، مجبوراً ہمیں سڑکوں پر آنا پڑا، تنقید کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں آنے کے بعد حکومت نے صحافیوں اور میڈیا ہائوسز کو خرید لیا۔ ایم ڈی پی ٹی وی کو شرم آنی چاہئے وہ مسلم لیگ (ن) کے پتلے بنے ہوئے ہیں۔ قوم کا ہر فرد 90 ہزار روپے کا مقروض بن چکا ہے۔ 30 نومبر کو ہر پاکستانی اسلام آباد پہنچے۔ عوام کیلئے سڑکوں پر نکلا ہوں۔ عوام کے پاس کچھ نہیں ہے، صرف ووٹ کی طاقت ہے اگر ان سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا جائے تو عوام کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ مودی پر غصہ ہے، وہ دھمکیاں دیتے ہیں مگر اپنے لوگوں کو ریلیف دے رہا ہے، بھارت میں حکومتیں کسانوں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں۔ عوام 30 نومبر کو اپنے ووٹ کی اہمیت کو منوانے کیلئے میرے ساتھ آئیں۔ قوم کرپٹ نظام‘ ناانصافی اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرے یہ جہاد ہے۔ عمران خان نے کہاکہ اگر میں وزیراعظم ہوتا تو اشتہاری سے بات نہ کرتا، اب میں اشتہاری ہوں وزیراعظم مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ میں وزیراعظم سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں، میری ٹیم بات کریگی۔ میں نے کبھی جرم نہیں کیا لیکن میرے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے۔ ماڈل ٹائون سانحہ میں لوگوں کو بیدردی سے مارا گیا، حکمرانوں پر منی لانڈرنگ کے مقدمات‘ حدیبیہ ملز مقدمات‘ آئی ایس آئی سے رقم لینے کے بعد بھی اشتہاری قرار نہیں دیا گیا، نوازشریف مجرم ہیں۔ آصف زرداری اور نوازشریف دونوں مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لندن پلان ہم نے نہیں نواز زرداری نے بنایا۔ دونوں تحریک انصاف کے سونامی سے ڈرے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو لاڑکانہ جا رہا ہوں، پنجاب پولیس کو بھی درست کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ میرٹ لائیں گے‘ سفارشی کلچر ختم کریں گے۔ نوازشریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے مریم نواز کو 100 ارب روپے کی سکیم پر بٹھا دیا گیا۔ کیا ملک بھر سے نوازشریف کو کوئی مائیکرو فنانس کا ماہر بینکار نہیں ملا۔ خیبر پی کے میں تعلیم اور صحت کا نظام بھی ٹھیک کررہے ہیں۔ صوبہ میں بلدیاتی الیکشن کیلئے تیار ہیں لیکن الیکشن کمشن تیار نہیں۔ نئے پاکستان میں قرضہ اور بھیک نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ساہیوال میں لگنے والے کوئلے کے پلانٹ سے یہاں کے لوگوں کو شدید آلودگی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ میرٹ پر یہاں پر کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں پولیس کو سیاسی مخالفوں پر استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ نیا پاکستان کیا ہوگا، نئے پاکستان میں ادارے خودمختار ہوں گے۔ صحت، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائیگی، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، ملک میں میرٹ ہو گا، اسی پاکستان سے پیسہ اکٹھا کریں گے اور کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے صرف پیسے والوں لوگوں سے ٹیکس لوں گا۔ عمران خان نے کہا اللہ نے قوم کو شعور دیا، آج میں اپنے سامنے جاگی ہوئی قوم کو دیکھ رہا ہوں، دھرنا ختم نہیں ہوگا، ہم استعفیٰ لئے بغیر نہیں جانے لگے۔ مجھے کسی نے پیغام دیا ہے کہ میاں نواز شریف آپکو بات چیت کرنے کیلئے بلا رہے ہیں، میں نے جواباً پوچھا کہ کیا نوازشریف ایک اشتہاری سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ مجرم میں نہیں میاں صاحب آپ اور آصف زرداری ہے۔ ماشااللہ دونوں بھائی لندن میں ملے۔ لندن پلان ہم نے نہیں آپ دونوں نے بنایا۔ دونوں ڈرے ہوئے ہیں۔ اگلے جمعہ میں لاڑکانہ پہنچ رہا ہوں، جب تک ادارے مضبوط نہیں ہونگے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ساہیوال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپکو مبارک ہو پہلا استعفیٰ مریم نواز کا آگیا ہے۔ اب تین استعفے حمزہ، شہباز اور نوازشریف کے اور چاہئیں جتنی جلدی کرو اتنا ہی فائدہ ہے، میری ننکانہ صاحب تقریر پر میڈیا نے طوفان کھڑا کردیا۔ عمران خان کے ساتھ قوم دیوارِ چین کی طرح کھڑی ہے، 90 دن میں ایک شیشہ نہیں ٹوٹا، 18 کروڑ لوگوں کو نوازشریف لوٹ رہا ہے، نوازشریف کو پتہ ہے جیل میرا سسرال ہے، خوشی خوشی جائوں گا اور ہتھکڑی میرا زیور ہے، خوشی سے پہنوں گا، ہمت ہے تو عمران خان کو گرفتار کرو، سارے ملک میں آگ لگا دوں گا، میں نے جرائم کو آگ لگانے کی بات کی ہے، مجھے امید نہیں تھی قوم ایسے نکلے گی، نواز شریف کا اقتدار ختم کرکے رہونگا، عمران خان اعلان جنگ کرے تو اعلان جنگ کرونگا۔ زرداری اور نوازشریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ خورشید شاہ سرکار کا ایجنٹ ہے، لوگ غربت کے باعث جسم فروشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس بار نواز شریف کا نہ حکومت چلانا اور نہ ملک میں رہنے کا دل ہے۔ میں خودکش سیاستدان ہوں اپنا تابوت خود کندھوں پر لیکر چلتا ہوں۔ اے قوم یہ نہ ہو میں تیونس کا محمد ابوعزیزی بن جائوں، بابر غوری نے مجھے فون کرکے اپوزیشن لیڈر بنانے کی بات کی۔ بابر غوری نے کہا میں نے اس سلسلے میں عمران خان سے بات کی۔ عمران خان کو مشورہ ہے گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو کنستر کاٹنا پڑتا ہے۔ ساہیوال سے واپس اسلام آباد دھرنے میں پہنچ کر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ لگتا ہے نواز شریف کوئی بہت بڑی غلطی کرنے والے ہیں، آج جہلم کے جلسے میں تمام ریکارڈ توڑ دینگے۔ 30 نومبر ہمیں منزل کے مزید قریب لے جائے گا۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ مجھے اشتہاری بنا دیا مگر قوم جانتی ہے کہ مجرم کون ہے۔ نواز شریف اپنے پر خودکش حملہ کرنے والے ہیں، نواز شریف بم کو لات مارنے والے ہیں۔ علاوہ ازیں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز صوبہ خیبر پی کے کا ایشو نہیں ہے، ان سے نمٹنا وفاق کا کام ہے۔ خیبر ایجنسی سے بھی اب لاکھوں آئی ڈی پیز خیبر پی کے میں پہنچ رہے ہیں جن کے سامنے پولیس بہت ہی کم ہے اس لئے وفاقی حکومت اس مسئلے میں ہم پر تنقید کرنے کی بجائے صوبائی حکومت کی مدد کرے۔ آئی ڈی پیز کے ایشو پر ماروی میمن ڈرامہ نہ کریں کیونکہ اس نازک صورتحال میں صوبے کی مدد کرنے کی بجائے اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔