برمنگھم: اہلکاروں سے ہاتھا پائی پولیس نے سکیورٹی خدشات کے باعث بلاول کو جلسہ کرنے سے روکدیا وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیٹے سے پوچھ گچھ گو بلاول گو اور گو مجید گو کے نعرے

16 نومبر 2014

برمنگھم (این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ) برطانوی پولیس نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جلسہ کرنے سے روک دیا تاہم برطانیہ کے مختلف شہروں سے آئے ہزاروں جیالے، کارکن اور حامی جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ انہوں نے جئے بھٹو جئے بلاول کے نعرے لگائے۔ پیپلزپارٹی کی سیاسی امور کی انچارج فریال تالپور  آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید، سینئر وزیر چودھری محمد یٰسین اور سینئر مشیر چودھری ریاض نے جلسہ گاہ کا دورہ کیا۔ جلسہ گاہ میںموجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فریال تالپور نے بلاول بھٹو زرداری کو سکیورٹی وجوہات کا جواز بنا کر جلسہ کرنے سے روکنے پر حکومت برطانیہ سے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیسا ملک اور کیسی جمہوریت ہے کہ ایک جمہوری سرگرمی کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کو جلسہ کرنے سے روکا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پی پی پی کا جلسہ شروع ہونے سے پہلے بدنظمی ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور جس کے بعد بلاول کی شرکت منسوخ ک یگئی۔ جلسے کیلئے دو ہزار سے زائد کارکن اکٹھے ہوئے تھے جو واپس چلے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ہال کے اندر سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے۔ فریال تالپور کا کہنا ہے کہ سازش کے تحت جلسہ کرنے سے روکا گیا جو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک نے کہا ہے آصف علی زرداری کل لندن میں پریس کانفرنس کرینگے اور اس صورتحال کے بارے میں بتائیں گے۔ رحمان ملک نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ جلسے میں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کی جائے۔ برطانوی پولیس نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیٹے قاسم مجید سے پوچھ گچھ کی ہے کہ جب جلسہ منسوخ ہوگیا تھا تو لوگوں کو کیوں بلایا؟ پرویسٹ مڈلینڈ پولیس کے مطابق نیو بنگلے ہال میں جلسے کیلئیپولیس سے اس ہفتے کے شروع میں رابطہ کیا گیا تھا، گذشتہ 48 گھنٹوں میں جلسے کی سکیورٹی خدشات کے حوالے سے اطلاعات ملی تھیں۔