شمالی وزیرستان : 90 فیصد علاقہ کلیئر حقانی نیٹ ورک ایسٹ ترکستان موومنٹ کا صفایا کر دیا : میجر جنرل ظفر اللہ

16 نومبر 2014

پشاور + وادی تیراہ (ایجنسیاں) آپریشن ضرب عضب کے انچارج میجر جنرل ظفراللہ خٹک نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے‘ دہشت گردوں سے39 آئی ڈی پیز فیکٹریاں اور 132 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، 138 دنوں میں 1198 دہشت گرد ہلاک، 250ٹھکانے تباہ ہوئے ہیں۔ 356 زخمی اور 227 گرفتار کئے گئے ہیں اور دہشت گردوں کے قبضے سے 2470 ایس ایم جی 293 مشین گنز 111 بھاری مشین گنیں اور 10 ہزار سے زائد دیگر بھاری آلات برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دہشت گردوں سے 39 آئی ڈیز فیکٹریاں اور 132 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے اور دہشت گردوں سے ملنے والا سارا اسلحہ ایک انفنٹری بریگیڈ کیلئے کافی ہے۔ فوجی آپریشن میں حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقے کو صاف کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کے باعث حقانی نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے افغانستان چلا گیا ہے۔ میرانشاہ سے سکیورٹی فورسز نے 7000کلو گرام جبکہ میر علی سے 23000کلو گرام مواد برآمد کیا ہے۔ 4000سے زیادہ بارودی سرنگیں تباہ کی گئی ہیں۔ آپریشنل کمانڈر نے امریکہ کے محکمہ دفاع کی اس رپورٹ کو بھی رد کیا کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا جس کا ذکر پینٹاگون کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو کہیں بھی پراکسی وار کے لئے استعمال کر رہی۔ چین کے نمائندوں کو بھی میر علی لایا گیا تھا اور ان کو دکھایا گیا تھا۔ ’پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کی تقریباً ڈھائی ارب روپے کی جنگی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ پانچ ماہ میں پاکستانی فوج کے 42افسر اور اہلکار ہلاک جبکہ 155زخمی ہوئے ہیں۔ جتنا اسلحہ اور بارودی مواد سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا ہے اس سے وہ اگلے 15سال تک سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ لڑ سکتے تھے۔ یہاں سے برآمد ہونیوالا بارود ایٹم بم جتنی تباہی پھیلا سکتا تھا۔ آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب وادی تیراہ میں امن لشکر اور دہشت گردوں میں جھڑپ میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، امن لشکر کے 7 ارکان زخمی ہوئے۔ پشاور میں کارخانوں، مارکیٹوں میں پولیس نے چھاپے مار کر 9 ہزار ڈیٹونیٹر برآمد کر لئے۔ تربت میں ایف ڈبلیو کے قافلے پر حملے میں 3سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ کوئٹہ میں گاڑی پر فائرنگ سے 2افراد جاں بحق ہو گئے۔ سوات میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں امن کمیٹی کا رکن مارا گیا۔
3دہشت گرد ہلاک