زرداری نے مجھے اغوا کرکے قتل نعش دریائے سندھ میں پھنکوانے کا منصوبہ بنایا تھا: ہاشوانی

16 نومبر 2014

اسلام آباد (جاوید صدیق) پاکستان کے ممتاز صنعتکار‘ فائیو سٹار ہوٹل کی چین کے مالک صدرالدین ہاشوانی نے کہا ہے کہ بھارت ایک بُت پرست ملک ہے‘ پاکستان کو اسکے سامنے جھکنے کی بجائے کھڑا ہونا چاہئے۔ اپنی یادداشتوں کی کتاب ”سچ کا سفر“ کے حوالے سے نوائے وقت کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو دو ٹکڑے کیا وہ کبھی ہمارے بارے میں اچھی سوچ نہیں رکھے گا۔ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط کرنا چاہئے۔ پاکستان کا دفاع اور فوج مضبوط ہے۔ اگر ہم محنت اور دیانتداری سے کام کریں تو پاکستان بہت ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ضیاءالحق نے انہیں سستے داموں ہوٹل فروخت کرکے پاکستان میں اہم بزنس مین بنایا تو صدر الدین ہاشوانی نے کہا کہ یہ سراسر غلط ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے تو مجھے گرفتار کیا تھا اور مجھے سمری ملٹری کورٹ کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ مجھ پر الزام تھاکہ میں بھٹو کا فرنٹ مین ہوں۔ میں نے وہ سرکاری کمپنی پی ایس ایل جو انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل ہوتی تھی‘ بولی دے کر خریدی تھی‘ میں نے سب سے زیادہ بولی دی تھی ‘ اس لئے مجھے وہ کمپنی دیدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ محمد خان جونیجو نے ایک مرسیڈیز گاڑی امپورٹ کی تھی جو انکے ایک دوست اقبال جونیجو نے مجھے فروخت کرنا چاہی لیکن میں نے یہ نہیں خریدی ‘ جس سے جونیجو صاحب ناراض ہوئے۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو انہوں نے ایک ”آنرریبل لیڈی“ کہا اور بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے مجھے وزیر بنانے کی پیشکش کی تھی لیکن میں نے محترمہ کو بتایا کہ میں سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر بے نظیر سے ان کے اچھے تعلقات تھے تو آصف علی زرداری سے ان کا کیا تنازعہ تھا تو صدر الدین ہاشوانی نے کہا کہ آصف علی زرداری کو میرے ہوٹل میں شوروغل کرنے پر جنرل منیجر نے سکیورٹی کے ذریعہ اٹھوا کر باہر پھینکوا دیا تھا۔ اس کے بعد اقتدار میں آ کر زرداری نے مجھے اغوا کر کے ساری جائیداد زبردستی مجھ سے چھین کر قتل کرنے اور میری نعش کو دریائے سندھ میں بہانے کا منصوبہ بنایا تھا‘ لیکن اﷲ نے اور جنرل آصف نواز نے مجھے بچا لیا۔ صدر الدین ہاشوانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل مشرف کو میں نے اپنے گھر ضرور دعوت دی تھی لیکن یہ دعوت نواز شریف کے خلاف نہیں تھی۔ البتہ بعض لوگوں نے میرے خلاف نوازشریف کے کان بھرنے کی کوشش کی ۔
ہاشوانی