شرح سود کم ہونے سے فائدہ حکومت کو ہوگا، بچت سکیموں کا منافع کم ہوجائیگا

16 نومبر 2014

لاہور (تجزیہ احسن صدیق) سٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی میں 50 بیسز پوائنٹس کم کئے جانے کا فائدہ صرف حکومت کو پہنچے گا۔ قومی بچٹ سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے منافع میں کمی ہو گی۔ پاکستان میں بچتوں کی شرح 13 فیصد سے کم ہے جبکہ بھارت میں بچتوں کی شرح 32 فیصد ہے۔ مانیٹری پالیسی میں 50 بیسز پوائنٹ کی کمی سے بچت سکیموں کے منافع میں کمی ہو گی، بچتوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ حکومت کے اندرونی قرضوں کا حجم 8200 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے جن پر اسے بھاری سود ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ نئی مانیٹری پالیسی کے باعث اسے کم شرح سود سے قرضے ملیں گے اور بجٹ خسارہ کم ہو گا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسین صدیقی نے کہا ہے کہ اگر معیشت کو فائدہ پہنچانا تھا تو صحیح طریقہ یہ تھا کہ سٹیٹ بینک شرح سود 10 فیصد پر برقرار رکھتا تاہم بینکوں کے سپریڈ کو 3.5 فیصد پر لاتا جواس وقت 7فیصد ہے۔ اس طرح سے کھاتے داروں کو 2 فیصد سالانہ زائد منافع مل سکتا تھا اور بینکوں سے قرضے حاصل کرنے والوں کی شرح سود میں بھی کمی کی جا سکتی تھی۔ بینکوں کے طاقتور مالکان (جن میں غیرملکیوں کی تعداد زیادہ ہے) کے تحفظ کیلئے اس فیصلہ سے اجتناب کیا گیا۔
بچت سکیمیں