محمود علی نے اپنی زندگی پاکستان کیلئے وقف کر رکھی تھی: ڈاکٹر رفیق احمد

16 نومبر 2014
محمود علی نے اپنی زندگی پاکستان کیلئے وقف کر رکھی تھی: ڈاکٹر رفیق احمد

لاہور (خصوصی رپورٹر) محمود علی نے اپنی زندگی پاکستان کیلئے وقف کررکھی تھی‘ آپ کی بڑی خواہش تھی کہ پاکستان ازسر نو دوبارہ ایک ہواور بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ بنے۔ ہمیں اپنا یہ نصب العین بنانا چاہئے کہ ہم پاکستان کی تکمیل کریں گے۔ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور بنگال تحریک پاکستان کا ایک بہت بڑا مرکز تھا۔ ان خیالات کا اظہار نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمےن پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان، شاہراہ قائداعظم لاہور مےں تحریک پاکستان کے رہنما،آسام مسلم لیگ کے سابق سیکرٹری‘ تحریک تکمیل پاکستان کے بانی صدر اور سابق وفاقی وزیر حکومت پاکستان محمود علی مرحوم کی آٹھویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس موقع پر ایس ایم ظفر، پیر سید محمد کبیر علی شاہ، جمیل اطہر، میجر جنرل(ر) راحت لطیف، رانا محمد ارشد، ڈاکٹر یعقوب ضیائ، عزیز ظفر آزاد، مولانا محمد شفیع جوش، پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی، ادیب جاودانی، انجینئر محمد طفیل ملک، میجر(ر) صدیق ریحان، چوہدری ریاض سمیت اساتذہ¿ کرام‘ طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔ قاری امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی، الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ¿ رسالت مآب میں نذرانہ¿ عقیدت جبکہ حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کلام اقبال پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے ادا کئے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور بنگال تحریک پاکستان کا ایک بہت بڑا مرکز تھا۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال ایک تقریب کا انعقاد کرنا چاہئے جس میں بنگالیوں کی تحریک پاکستان کے دوران قربانیوں کو اجاگر کیا جائے۔ ہمیں اپنے پرانے مرکز کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ باہمی وفود کا تبادلہ ہو، طلبہ کو وظائف دیے جائیں، یہاں کے اخبارات بنگلہ دیش کی خبروں کو نمایاں کوریج دیں جبکہ بیرون ممالک میں مقیم بنگالیوں سے روابط بڑھائے جائیں۔ محمود علی نے یہاں تحریک تکمیل پاکستان شروع کی۔ تحریک تکمیل پاکستان کسی نہ کسی صورت میں اپنا ایک مرکز بنگلہ دیش میں بھی قائم کرے۔ سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ محمود علی کو پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان سے بے حد لگاﺅ اور پیار تھا۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد محمودعلی کی توانا آواز نے ہمارے حوصلوں کو بڑھایا اور انہوں نے ”ایک قوم دو ریاستیں“ کی تھیوری دی جس کے بعد اندرا گاندھی بھی خاموش ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بنگلہ دیش میں متحدہ پاکستان کے حامیوں کو غلط قانون کے تحت سزائیں دی جارہی ہیں، ہمیں اس ظلم کیخلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔ میرے خیال میں بنگلہ دیش میں اتنے ظلم کا نتیجہ ”ایک قوم دو ممالک“ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاریخ کا یہ آخری سبق ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مظلوم فاتح اور ظالم مفتوح بن جاتا ہے۔ سجادہ نشین آستانہ¿ عالیہ چورہ شریف پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے کہا کہ اگر محمودعلی جیسا مردآہن بنگلہ دیش میں ہوتا تو آج وہاں یہ صورتحال نہ ہوتی۔ تکمیل پاکستان ان کی خواہش تھی ‘ اس کیلئے انہوں نے بھرپور جدوجہد کی اور اس معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہم نئے جوش و جذبے کے ساتھ اس تحریک کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں اور ان کا مشن آگے بڑھائیں گے۔ ممتاز صحافی وچیف ایڈیٹر روزنامہ جرات جمیل اطہرنے کہا کہ محمودعلی جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔وہ ایسا پاکستان دیکھنے چاہتے تھے جس کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا اور جس کے خاکے میں قائداعظم نے رنگ بھرا تھا۔ محمودعلی ایک فرد نہیں بلکہ تحریک تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایک مقصد اور نظریے کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ ممتاز دانشور میجر جنرل(ر) راحت لطیف نے کہا کہ محمودعلی ایک عظیم انسان تھے۔ تحریک تکمیل پاکستان پنجاب کے صدر ادیب جاودانی نے کہا کہ محمودعلی نے ہمارے سکول کی تقریب کے دوران تقریر کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے اپنی جاں جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ آپ کی زبان پر آخری الفاظ کشمیر کے متعلق تھے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے جسد خاکی کو مزار قائداعظم کے احاطہ میں دفن کیا جائے۔ ممتاز کشمیری رہنما مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ محمود علی کی زبان پر آخری الفاظ کشمیر کے متعلق تھے جبکہ قائداعظم بھی آخری وقت میں کشمیر کی ہی بات کرتے رہے۔ تحریک تکمیل پاکستان لاہور کے سیکرٹری جنرل عزیز ظفر آزاد نے کہا کہ محمود علی نے نوجوانی میں قائداعظم کی زیر قیادت حریت کا پرچم اٹھایا اور ساری زندگی اس پرچم کو سربلند رکھا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا کہ آج کی نشست قائداعظمؒ کے سچے ماننے والے،عظیم محب وطن رہنما اورتحرےک پاکستان کے کارکن محمود علی کی ےاد مےں منعقد کی گئی ہے۔آپ نے بھارت کی ننگی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو قبول نہیں کیا،آپ تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت دو تاریخی ریفرنڈم ہوئے۔ ایک کے ذریعے صوبہ سرحد اور دوسرے کے ذریعے سلہٹ کا علاقہ پاکستان کا حصہ بنے تھے۔ سلہٹ ریفرنڈم کی کامیابی میں مرحوم محمود علی کا کلیدی کردار تھا۔ 1971ءکے سانحہ کے بعد انہوں نے موجودہ پاکستان میں مرتے دم تک سکونت رکھی اور یہاں تحریک تکمیل پاکستان شروع کی، ہم بھارت کی ایما پر بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے متحدہ پاکستان کے حامیوں کو سزائیں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستانی حکومت اس حوالے سے صدائے احتجاج بلند کرے۔ تقریب کے آخر میں پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے محمود علی کی روح کے بلندی¿ درجات اور ملکی تعمیر و ترقی کے لےے دعا کروائی۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...