نواز/ زرداری ’’غیر تحریری معاہدہ!‘‘

16 نومبر 2014

استاد شاعر میر تقی میر کے اس شعر میں اگر ’’میر‘‘ کے بجائے ’’وزیر‘‘ فٹ کر دیا جائے تو یوں ہو جائے گا
’’ہم ہوئے تم ہوئے وزیر ہوئے
سب اسی زلف کے اسیر ہوئے‘‘
سابق نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی (مرحوم) کے صاحبزادے جناب غلام مرتضیٰ جتوئی بھی وفاق میں وزیر صنعت و پیداوار ہیں اور وزیراعظم نواز شریف کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر بھی لیکن خبر ہے کہ موصوف زلفِ وزیراعظم سے رہائی پانا چاہتے ہیں۔ جتوئی صاحب نے وزارت سے اپنا استعفیٰ وزیراعظم صاحب کو بھجوا دیا ہے۔ دوسرا استعفیٰ وفاقی وزیر مملکت برائے مواصلات جناب عبدالحکیم بلوچ کا ہے۔ دونوں استعفوں میں اپنی اپنی وزارت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی مداخلت پر احتجاج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’ہم تو بے اختیار وزیر ہیں اور بیوروکریسی کے لوگ ہماری بات نہیں مانتے۔ ہم وزارت کے فنڈز بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ کسی چپراسی کو بھی تبدیل نہیں کر سکتے، اس لئے کہ دونوں وزارتوں کے انچارج تو میاں شہباز شریف ہیں‘‘
صورت یہ ہے کہ جناب غلام مرتضیٰ جتوئی اپنے والدِ محترم کی وراثت نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ تھے اور وہ ’’اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت‘‘ میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے تھے۔ عاشقی اور سیاست میں فرق یہ ہوتا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی خدمت میں اپنا سب کچھ نچھاور کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ
’’سپردم بتو مایہ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را‘‘
یعنی (اے دوست!) میں نے اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا ہے۔ اب تو جانے اور ترا کام۔ اسے ’’حسابِ داستاں در دل‘‘ بھی کہتے ہیں لیکن کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر کی جانے والی دوستی میں ایک ایک پائی کا حساب کیا جاتا اور رکھا جاتا ہے۔ ’’کیا کھویا اور کیا پایا؟‘‘ کا اصول ہر وقت سامنے رکھا جاتا ہے۔ سودائے عشق اور سودائے سیاست میں یہی بڑا فرق ہے۔ مرزا غالب نے بھی سودائے عشق میں سودائے سیاست کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ
’’وفا کیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہرا؟
تو پھر اے سنگ دل ترا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟‘‘
سنسکرت اور ہندی زبان میں وزیر کو ’’منتری‘‘ کہتے ہیں۔ قدیم بھارت میں (کشتری) راجائوں اور مہاراجائوں کے دربار میں چاروں ویدوں، رگ وید، سام وید، یجروید اور اتھر وید کے سارے ’’منتر‘‘ جاننے والے کو منتری (وزیر) یا ’’مہا منتری‘‘ (وزیراعظم) مقرر کیا جاتا تھا۔ بادشاہوں، فوجی حکمرانوں اور منتخب صدور اور وزرائے اعظم کے درباروں میں بھی وہی شخص اعلیٰ مقام پاتا ہے جسے کوئی نہ کوئی ’’منتر‘‘ آتا ہو۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہر منتخب رکن وزارت کا اہل سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بااختیار صدر یا وزیراعظم کی مرضی ہے کہ جس کے سر پر چاہے ’’وزارت کا ہما‘‘ بٹھا دے یعنی ’’جسے پیا چاہے وہی سہاگن!‘‘
عربی، فارسی اور اردو میں ’’وزیر‘‘ کا مطلب ہے بوجھ اٹھانے والا اور ’’وزیراعظم‘‘ اسے کہا جاتا ہے کہ جو مملکت کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھائے۔ اگر جناب غلام مرتضیٰ جتوئی اور جناب عبدالحکیم بلوچ کی وزارتوں کا بوجھ ان وزارتوں کے بیوروکریٹس اور ’’تخت لہور کے والی‘‘ میاں شہباز شریف نے اٹھا رکھا ہے تو اصولی طور پر دونوں وزرا کو ان سب حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے وگرنہ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کون کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے؟ گاہے گاہے بھٹو قبیلہ کے سردار اور مرحوم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے "Talented Cousin" جناب ممتاز علی بھٹو کے گلوے شکوے بھی میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ممتاز بھٹو صاحب
’’میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا‘‘
کا نعرہ لگا کر اپنے سندھ نیشنل فرنٹ سمیت مسلم لیگ ن کے سمندر میں کود پڑے تھے۔ اس خوش فہمی میں کہ ناخدائے مسلم لیگ انہیں قصر صدارت کا مکین بنا دیں گے لیکن وزیراعظم نواز شریف کو ڈرا دیا کہ ’’اصلی بھٹو‘‘ ممتاز علی بھٹو۔ نواسہ بھٹو بلاول بھٹو کے والد آصف زرداری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے‘‘ بات جنابِ وزیراعظم کی سمجھ میں آ گئی حالانکہ سردار ممتاز علی بھٹو کی مدد سے محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا تھا۔ یہ ممتاز علی بھٹو ہی تھے کہ جنہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کہا تھا کہ ’’یہ سیدھا سیدھا فوجداری مقدمہ ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کس کس کو ہوا ہے‘‘
ممتاز علی بھٹو اگر سندھ کے گورنر بھی ہوتے تو جناب آصف زرداری اور ان کے بیٹے کے زیر سایہ چلنے اور پلنے والی سندھ میں سید قائم علی شاہ کی حکومت لڑکھڑا کر گر پڑتی۔ تحریک پاکستان میں 1944ء سے 1947ء تک مسلم لیگ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال رکن کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دینے والے سابق وزیر دفاع، وزیر تعلیم و وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ کے بارے میں بھی خبریں گرم تھیں کہ ’’میاں نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان یا گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے‘‘ لیکن یہ خبریں افواہیں ثابت ہوئیں۔ سید غوث علی شاہ نے مسلم لیگ ن سندھ کے صدر کی حیثیت سے صوبہ بھر میں مسلم لیگ ن کو مضبوط و مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ صدر پرویز مشرف نے سید غوث علی شاہ کو کئی بار مختلف عہدوں کی پیشکش کی لیکن انہوں نے مسلم لیگ ن اور اپنے قائد سے بے وفائی نہیں کی ’’ہور چوپو!‘‘
بات جناب غلام مرتضیٰ اور جناب عبدالحکیم بلوچ کو سونپی جانے والی بے اختیار وزارتوں سے چلی تھی۔ کوئی بھی بے اختیار وزیر اختیارات کے بغیر ’’وزیر باتدبیر‘‘ نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف کا تعلق اگرچہ صدر/ وزیراعظم جناب ذوالفقار بھٹو سے کبھی نہیں رہا۔ لیکن کسی کو وزیر بنا کر اسے بے اختیار بنا دینا جناب بھٹو کا ہی سٹائل تھا۔ پنجابی زبان کے پہلے شاعر بابا فرید شکر گنجؒ نے اگرچہ ’’فقیری‘‘ کے بارے میں کہا لیکن اگر بابا جیؒ کے اس شعر میں ’’فقیری‘‘ کے بجائے ’’وزیری‘‘ جڑ دیا جائے تو اس کی صورت یوں ہو گی۔
فریدا ’’وزیری‘‘ دور ہے جیسے پیڑ کھجور ہے
چڑھے تو پیوے سوم رس گرے تو چکنا چور
جناب غلام مرتضیٰ جتوئی، جناب ممتاز علی بھٹو اور سید غوث علی شاہ بہت ہی سیانے بیانے سیاستدان ہیں لیکن انہی کی طرح کے ایک عاشقِ صادق نے کہا تھا کہ …
مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے؟
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ’’سندھ ڈیسوں یا نہ ڈیسوں‘‘ کے بارے میں ’’نواز زرداری غیر تحریری معاہدہ‘‘ ہو چکا ہے۔